تصویر بشکریہ، وزیراعظم شہباز شریف سوشل میڈیا

قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) اجلاس میں 4 ہزار 224 ارب کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔

اجلاس میں مالی سال 25-2024ء میں معیشت کی کارکردگی کے نظرثانی شدہ اشاریے پیش کیے گئے اور بتایا گیا کہ 3 ہزار 483 ارب روپے قومی ترقیاتی پروگرام خرچ کیے جارہے ہیں۔

بھارت سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارت سے خطے کی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3 ہزار 483 ارب میں سے 1100 ارب وفاق اور 2 ہزار 383 ارب روپے صوبوں کا حصہ ہے۔

اعلامیے کے مطابق این ای سی نے 25-2024ء میں مجموعی قومی پیداوار کی 2 اعشاریہ 7 فیصد شرح نمو کی منظوری دی جبکہ اگلے مالی سال کےلیے 4 اعشاریہ 2 فیصد شرح نمو کی منظوری دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی 24 تا اپریل 25 میں ترسیلات زر میں 30 اعشاریہ 9 فیصد اضافہ ہوا ہے ، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پہلی مرتبہ مثبت رہا ہے جبکہ مالی خسارہ کم ہوکر مجموعی قومی پیداوار کا 2 اعشاریہ 6 فیصد رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرائمری بیلنس اضافے کے بعد مجموعی قومی پیداوار کا 3 فیصد رہا، حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے پالیسی ریٹ بتدریج کمی کے بعد 11 فیصد پر آیا۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ جولائی 24 تا مئی 25 تک نجی شعبے کی ترقی کےلیے قرضے بڑھ کر 681 ارب تک پہنچے ہیں جبکہ مجموعی قومی پیداوار کا حجم 114 ٹریلین روپے یا 411 ارب ڈالر ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں 26-2025ء کے سالانہ ترقیاتی پلان کی منظوری دی گئی، اس دوران 4 ہزار 224 ارب روپے کا قومی ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق 1ہزار اب وفاق جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کےلیے 2 ہزار 869 ارب روپے مختص ہوں گے۔

اجلاس میں این ای سی کے 6 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی، وزیراعطم نے کہا کہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرعی شعبہ ملکی زر مبادلہ میں اضافے اور شرح نمو میں اضافے کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے، زرعی پیداوار میں بتدریج اضافے کے لیے حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مجموعی قومی پیداوار قومی ترقیاتی بتایا گیا کہ کی منظوری اجلاس میں ارب روپے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن