اے این ایف آپریشنز میں 67 لاکھ کی منشیات برآمد، خاتون سمیت 6 اسمگلر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
اے این ایف نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
اینٹی نارکوٹکس فورس نے مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن کے دوران مجموعی طور پر 62.287 کلوگرام منشیات برآمد کی گئیں، جن کی مالیت 67 لاکھ 61 ہزار روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کے علاقے کاک پل کے قریب کی گئی کارروائی میں ایک خاتون سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 9.
اسی طرح اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران اے این ایف اہلکاروں نے 43.2 کلوگرام چرس اور 6.6 کلوگرام افیون برآمد کر کے مزید 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
اُدھر لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی اے این ایف نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ قطر جانے والے ایک مسافر کے پیٹ سے 337 گرام آئس سے بھرے 61 کیپسول برآمد کیے گئے۔ اسمگلر نے کیپسول نگل کر بیرون ملک منشیات پہنچانے کی کوشش کی، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔
سیالکوٹ میں واقع ایک کوریئر آفس میں بھی اے این ایف نے کامیاب چھاپا مار کارروائی کی، جہاں امریکا سے بھیجے گئے ایک پارسل کی تلاشی کے دوران 30 گرام ویڈ برآمد ہوئی اور ایک ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
علاوہ ازیں لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کارگو آفس میں کراچی بھیجے جانے والے ایک پارسل کی جانچ کے دوران 120 گرام ایم ڈی ایم اے (نشہ آور پاؤڈر) برآمد کیا گیا، جس سے منشیات کی بین الصوبائی ترسیل کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی گئی۔
تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اے این ایف کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کا مقصد منشیات کی روک تھام اور اس کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے این ایف کے دوران
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔