فواد چوہدری کا نام پی سی ایل سے خارج، توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فواد چوہدری کا نام سفری پابندی فہرست سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔ دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل فیصل عرفان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور فواد چوہدری کا نام پی سی ایل سے نکال دیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔
فواد چوہدری روسٹرم پر آئے اور عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، آپ کو پتہ ہے ہم نے کہاں جانا ہے، ہم نے یہیں اپوزیشن کرنی ہے۔ اس پر جسٹس انعام امین منہاس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے آپ نے بھی ان کے پیچھے پڑ کر نام نکلوا لیا ہے۔
بعد ازاں فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے، انہیں مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔ اس وقت پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بہت زیادہ ہیں، اور ان کی بنیادی وجہ رابطوں کا نہ ہونا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہم نے خود رابطہ ختم کر کے نقصان اٹھایا، پارٹی میں کچھ لوگ کہتے ہیں جن کا رابطہ ہے اُنہیں نکال دیا جائے۔ بھائی جن کا رابطہ ہے وہی تو عقل کی بات کریں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ جو لوگ ذاتی مفاد کے لیے رابطے استعمال کرتے ہیں، اُن کی مذمت ہونی چاہیے۔ اگر محمد زبیر کے رابطے ہیں تو یہ تو اچھی بات ہے۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عدالتوں سے نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی سے باہر آئیں گے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فواد چوہدری
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔