وزیراعظم نے خام مال پر درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کا منصوبہ منظورکرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے 7,066 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی میں کمی کی منظوری دے دی ہے، جن میں خام مال، درمیانی اور کیپیٹل گڈز (دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا) شامل ہیں۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق وزیر اعظم نے ان تجاویز کو بجٹ تقریر میں باضابطہ اعلان کے لیے منظوری دی، جنہیں اس سے قبل ٹیرف پالیسی بورڈ اور اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری حاصل ہو چکی تھی، تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بجٹ اعلان سے قبل نفاذ کمیٹی کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کی نشاندہی کرے۔
سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز ڈان کو بتایا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں 4294 ٹیرف لائنز پر 2 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) ختم کرنے کا اعلان کرے گی، یہ زیادہ تر خام مال پر مشتمل ہیں، جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 545 ٹیرف لائنز پر اے سی ڈی کو 4 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا جائے گا، 2227 ٹیرف لائنز پر 6 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کیا جائے گا اور جن تمام مصنوعات پر اس وقت 20 فیصد سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے، ان پر اے سی ڈی کو 7 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا جائے گا۔
سرکاری حکام کے مطابق سب سے زیادہ اثر ان مصنوعات پر پڑے گا جو چیپٹر 28 سے 38 میں شامل ہیں، جن میں زیادہ تر کیمیکل، دواسازی، پلاسٹک وغیرہ شامل ہیں، 2 فیصد سے 4 فیصد تک ڈیوٹی میں کمی ان تمام مصنوعات کی لاگت کو کم کر دے گی۔
یہ کمی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مصنوعات پر بھی لاگو ہو گی، جو پاکستان کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 84 اور 85 میں شامل ہیں، اسی طرح پولسٹر فلمنٹ یارن اور اسٹیل سیکٹر کی ایچ آرسی مصنوعات پر بھی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ان تجاویز کو ٹیرف پالیسی بورڈ اور اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری پہلے ہی حاصل ہو چکی تھی، جبکہ وزیر اعظم نے بجٹ تقریر میں باضابطہ اعلان کی منظوری دے دی ہے، تاہم انہوں نے ہدایت کی ہے کہ نفاذ کمیٹی بجٹ سے قبل ممکنہ رکاوٹوں کی نشاندہی کرے۔
سادہ ڈھانچہ
بجٹ میں حکومت کسٹمز ڈیوٹی کا ایک سادہ اور قابلِ فہم ڈھانچہ متعارف کروائے گی، جس میں نئی ڈیوٹی کی شرحیں 0، 5، 10، 15 اور 20 فیصد رکھی جائیں گی، موجودہ 16 فیصد کی شرح کو کم کر کے 15 فیصد کیا جائے گا جبکہ 11 فیصد کی شرح کو 10 فیصد پر لایا جائے گا، 3 فیصد کی موجودہ سلیب ختم کر دی جائے گی اور متعلقہ مصنوعات کو یا تو زیرو ڈیوٹی یا نئی 5 فیصد سلیب میں شامل کیا جائے گا۔
مختلف مصنوعات پر لاگو 5 فیصد سے 90 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹیز میں آئندہ بجٹ میں نمایاں کمی کی جائے گی، ان ڈیوٹیز کو اگلے 5 سال میں مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ درآمدی لاگت کم ہو اور مارکیٹ تک رسائی آسان ہو سکے۔
اس وقت بعض مصنوعات پر 90 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، جسے بتدریج کم کر کے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔
کسٹمز کے پانچویں شیڈول کو ختم کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مخصوص صنعتوں کو ٹیرف میں رعایت دی جاتی تھی، اب ان اشیا کو مرحلہ وار پہلے شیڈول میں منتقل کیا جائے گا، ایک سرکاری اہلکار کے مطابق آئندہ بجٹ میں ٹیرف کے ڈھانچے میں کوئی ایسی تبدیلی شامل نہیں جس سے کسی خاص صنعت کے مفاد کو نقصان پہنچے۔
شراکت داروں سے مشاورت
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹیئرنگ کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ بجٹ کے اعلان کے بعد بڑے صنعتی شعبوں جیسے آٹو، آئرن و اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور پلاسٹک سے باقاعدہ مشاورت شروع کرے، کیونکہ ان شعبوں کو اس وقت 100 فیصد سے 150 فیصد تک مؤثر ٹیرف تحفظ حاصل ہے۔
حکام کے مطابق کمیٹی تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشورے کے بعد ان شعبوں کے لیے ایک متفقہ ٹیرف کمی کی تجویز دے گی, وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح درآمدی متبادل کے بجائے برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی کو فروغ دینا ہے۔
وزیر اعظم نے منتخب صنعتوں کے لیے مرحلہ وار ٹیرف تحفظات میں کمی کے مجموعی منصوبے سے اتفاق کیا ہے۔
منظور شدہ منصوبے کے تحت حکومت نے آئندہ پانچ سال کے دوران سادہ اوسط ٹیرف کو موجودہ 19 فیصد سے کم کر کے 9.
5سالہ نفاذی مدت کے اختتام تک اس ٹیرف اصلاحات کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی سلیب 15 فیصد ہو گا اور وہ صنعتیں جو اس وقت 20 فیصد سے زائد ڈیوٹی ادا کر رہی ہیں، بالخصوص آٹو انڈسٹری، ان پر اس کا نمایاں اثر ہو گا۔
اس وقت مختلف سلیبز پر 2، 4، 6 اور 7 فیصد کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیز لاگو ہیں، جنہیں اگلے 3 سے 4 سال کے دوران مرحلہ وار ختم کر کے صفر کر دیا جائے گا۔
Post Views: 4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصد سے کم کر کے ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی کیا جائے گا مصنوعات پر کی منظوری سے زیادہ کے مطابق شامل ہیں فیصد تک کمی کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔