سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، آبی جارحیت ہے، بھارت کو اس کا بھی جواب دیں گے، وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور آبی جارحیت ہے، معرکہ حق کی طرح بھارت کو آبی جارحیت کا بھی جواب دیں گے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آبی وسائل سے متعلق امور پر اہم اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور آبی جارحیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معرکہء حق کی طرح بھارت کو اس کی آبی جارحیت کا نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے 24 اپریل کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کے تحت جواب دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معرکہ میں بھی فتح سے ہمکنار ہو گا، وفاقی حکومت اور صوبوں سمیت تمام وفاقی اکائیوں کو ملک میں نئے پانی کے ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے مل کر کام کرنا ہے۔

غیر متنازعہ ذخائر کی تعمیر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کا جائے گا، نئے ڈیمز کی تعمیر ، تمام صوبوں کے اتفاق سے ہوگی۔

اجلاس میں ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے یک زبان ہو کر بھارت کی آبی جارحیت کی مذمت کی اور اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بنیان مرصوص بن کر ملک کی آبی سیکورٹی یقینی بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے ملک میں نئے آبی ذخائر بنانے اور انکی فنڈنگ کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کئے۔

کمیٹی نئے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے فنڈنگ کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے گی اور اس حوالے سے سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

کمیٹی میں چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم اور متعلقہ وفاقی وزراء شامل ہوں گے.

وزیر اعظم نے کمیٹی کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو ملک میں آبی وسائل اور دریاؤں کی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے جسے 2032 تک مکمل کر لیا جائے گا ؛مہند ڈیم 2027 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

اس وقت ملک میں 11 ڈیمز ہیں جن کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 15.318 ملین ایکڑ فٹ ہے .پی ایس ڈی پی کے تحت 32 چھوٹے بڑے ڈیمز زیر تعمیر ہیں جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 79 ڈیمز زیر تعمیر ہیں۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری ، وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناءاللہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور ، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ، وزیراعظم آزار جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان ، وزیر مملکت ریلوے بلال اظہر کیانی ، چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کرہء ارض کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ماحولیات کے عالمی دن کا تھیم – “پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ” ہے ۔ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لئے پر بروقت اور فوری عمل درآمد درکار ہے۔

پلاسٹک کی آلودگی ایک ماحولیاتی چیلنج ہے جو ہمارے ماحولیاتی نظام، ہماری معیشت اور آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آلودگی نہ صرف دریاؤں اور سمندروں کو متاثر کرتی ہے بلکہ سمندری حیات کے لئے بھی مضر ہے۔ پوری دنیا میں پلاسٹک کا فضلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور پاکستان بھی اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔

پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آکودگی کے خلاف پوری دنیا کو جرات مندانہ مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

حکومت پاکستان ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے جو ماحول دوست متبادل ذرائع توانائی کو فروغ دیتی ہیں، اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور پلاسٹک کے استعمال پر سخت قوانین و ضوابط کا نافذ کرتی ہیں۔ تاہم، حقیقی تبدیلی انفرادی سطح پر شروع ہوتی ہے — ہمارے گھروں، ہمارے محلوں ، اور زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارے انتخاب سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔

آئیے آج کے دن یہ عزم کریں کہ ہم آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے ماحول کو بہتر اور صاف بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کردے، خطبہ حج اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کردے، خطبہ حج پاکستان کرپٹو میں بھارت سے آگے،’اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو‘قائم وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ بلوچستان میں کسی بڑے ملٹری آپریشن کی ضرورت نہیں، وزیراعلیٰ سرفرازبگٹی بھارت کی آبی دہشتگردی، ملک میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزار ایکڑ فٹ کم ہوگیا سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا، پاکستانی مندوب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ا بی جارحیت ہے گلگت بلتستان کے حوالے سے جواب دیں گے شہباز شریف وفاقی وزیر بھارت کو ا وزیر اعلی اجلاس میں کی تعمیر ملک میں ا لودگی نے والی کرنے کے کی ا بی کے لئے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان