Express News:
2026-07-24@13:06:09 GMT

آئندہ مالی سال میں شرح نمو محض 2.44 فیصد رہنے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

لاہور:

پاکستان کی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے اور مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو محض 2.44 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کی 1.7 فیصد شرح کے مقابلے میں معمولی بہتری ضرور ہے مگر اب بھی تسلی بخش سطح سے نیچے ہے۔

یہ اعداد و شمار لاہور اسکول آف اکنامکس کی ماڈلنگ لیب کی رپورٹ میں پیش کیے گئے، جن کے مطابق معیشت کی سست روی بنیادی طور پر صنعتی اور زرعی شعبوں کی خراب کارکردگی، اور حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تخمینے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس اور عالمی اداروں جیسے عالمی بینک، آئی ایم ایف، اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازوں سے مطابقت رکھتے ہیں، جو بھی شرح نمو کو 2.

5 تا 2.7 فیصد کے درمیان دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی نئے مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد تک جانے کی پیشگوئی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار (LSM) رواں مالی سال میں 1.9 فیصد کم ہو چکی ہے، جو گذشتہ دو سال سے جاری تنزلی کے رجحان کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اہم فصلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی،گندم کی پیداوار 9 فیصد گھٹ کر 29 ملین ٹن رہ گئی،مکئی میں 15 فیصد کمی،گنا میں 4 فیصد کمی،چاول میں 1.4 فیصد کمی جبکہ روئی کی پیداوار میں 31 فیصد کی شدید کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کمی موسمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے امدادی قیمتوں کے خاتمے جیسی پالیسی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جس نے کسانوں کے لیے فصل اگانا غیرمنافع بخش بنا دیا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس فصلوں کی پیداوار کا اندازہ صرف مقدار کے حساب سے لگاتا ہے، قیمتوں میں کمی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔

مثال کے طور پر گندم کی قیمت میں فی 40 کلو تقریباً 1,000 روپے کی کمی کے باعث کسانوں کو تقریباً 25 فیصد مالی نقصان ہوا، جس سے زراعت کی حقیقی صورتحال مزید خراب نظر آتی ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کر دیا

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25میں مہنگائی کی شرح 8.37 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو کہ حکومت کے 7.5 فیصد اور آئی ایم ایف کے 5.1 فیصد کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسیوں نے زرعی شعبے کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ایسی صورتحال میں، جب صنعتی پیداوار پہلے ہی مندی کا شکار ہے، زرعی شعبے کو مزید دباؤ میں لانا معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب بھی پاکستان کی شرح نمو 5 فیصد سے تجاوز کرتی ہے، درآمدات میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ ایل ایس ای کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت کو سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی ماڈل اپنانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں کسی حد تک کمی لائی گئی ہے، لیکن پائیدار اور جامع ترقی کا راستہ تاحال واضح نہیں۔ صنعتی اور زرعی شعبے کو متوازن پالیسی سپورٹ فراہم کیے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی کی پیداوار ئی ایم ایف رپورٹ میں مالی سال کے مطابق گئی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ