کراچی میں آج صبح پھر زلزلے سے زمین لرز اٹھی، چھ روز میں مجموعی تعداد 30 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں آج صبح بھی زمین لرزنے کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد چھ روز میں آنے والے زلزلوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آج صبح بھی بھینس کالونی اور اطراف کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور علاقہ مکین گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
، جس کے بعد اتوار سے آج صبح تک شہر کے مختلف علاقوں میں آنے والے ہلکی شدت کے زلزلوں کی مجموعی تعداد 30 ہوگئی۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے نیشنل سونامی سینٹر کے ڈائریکٹرامیرحیدرلغاری کی جانب سےلانڈھی فالٹ لائن آئندہ چندروزتک فعال رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ زیرزمین موجود تہوں کی نقل وحرکت کی وجہ سے توانائی پیدا ہورہی ہے،جوبتدریج خارج ہونے کی وجہ سے زلزلوں کا سبب بن رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔