عطا تارڑ سے ڈی جی سول انفارمیشن سروس اکیڈمی کی الوداعی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن سروس اکیڈمی مبشر توقیر شاہ نے جمعرات کو الوداعی ملاقات کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مبشر توقیر شاہ کو ان کی ریٹائرمنٹ پر وزارت اطلاعات میں شاندار خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مبشر توقیر شاہ کی خدمات وزارت اطلاعات، میڈیا اور ابلاغ عامہ کے شعبوں میں قابل تقلید ہیں۔ مبشر توقیر شاہ نے ہمیشہ قومی مفاد اور پیشہ ورانہ دیانتداری کو مقدم رکھا، ان کی قیادت میں انفارمیشن سروس اکیڈمی نے نوجوان افسران کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مبشر توقیر شاہ نے وزارت اطلاعات، ساتھی افسران اور عملے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزارت اطلاعات میں اپنے کیریئر پر فخر ہے۔ میری دعا ہے کہ وزارت اطلاعات مستقبل میں بھی قومی بیانیہ کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کرتی رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مبشر توقیر شاہ وزارت اطلاعات
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔