کشمیریوں پر بھارت کا ریاستی ظلم و تشدد جاری، دہلی میں نوجوان کا وحشیانہ قتل
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
کشمیری مسلمانوں پر بھارت کا ریاستی ظلم و تشدد جاری ہے اور اسی لہر میں دہلی میں کشمیری نوجوان کے وحشیانہ قتل کا واقعہ سامنے آ گیا۔
پہلگام واقعے کے بعد سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف قتل کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔ کشمیری مسلمان مقبوضہ وادی میں ہی نہیں، بلکہ پورے بھارت میں خوف کے سائے تلے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔
بھارتی پولیس کی پر تشدد کاروائیوں نے ایک اور کشمیری نوجوان کی جان لے لی۔ حال ہی میں دہلی کے لجپت نگر میں 30 سالہ کشمیری نوجوان زبیر احمد کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس کی تشدد زدہ لاش دہلی کے ایک عوامی پارک میں ملی۔
التجا مفتی کے مطابق زبیر احمد بٹ کا قتل کوئی معما نہیں، دہلی پولیس نے گرفتار کر کے وحشیانہ تشدد کیا۔ 30 سالہ زبیر اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کا واحد کفیل تھا۔ بے گناہ کشمیریوں کی جانوں کو بغیر ثبوت ختم کرنے کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے زبیر احمد بٹ کے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمے داروں کو گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔