حکومت کا کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے ہاؤسنگ لون متعارف کرانے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
حکومتِ پاکستان آئندہ ہفتے پیش کیے جانے والے بجٹ میں کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے ہاؤسنگ لون اسکیم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی رجسٹریشن کے لیے غیر ضروری این او سی ختم
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت 3 سے 5 مرلہ کے رہائشی یونٹس کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے افراد کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد مل سکے۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کے لیے رہائش کے مواقع بڑھانے اور ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس اسکیم سے نہ صرف شہریوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ تعمیراتی صنعت اور معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی تفصیلات بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے کم آمدنی والے افراد کو اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور ملک میں رہائش کے مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم اٹھایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ ٹکس ہاؤسنگ سیکٹر ہاؤسنگ لون ہاوسنگ لون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹکس ہاؤسنگ سیکٹر ہاؤسنگ لون ہاوسنگ لون کم آمدنی والے کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔