نماز عید کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ وہ طبقہ جو ٹیکس نہیں دیتا اس کو اب ٹیکس دینا ہوگا، وڈیروں اور اشرافیہ کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں، مہنگائی اور بےروزگاری کے خاتمے کے لیے ہم نے شیڈو بجٹ پیش کیا ہے، ان ڈائریکٹ ٹیکس کو ختم کر کے ہمیں ڈائریکٹ ٹیکس لانا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سالوں تک غریب طبقے نے قربانیاں دیں، اب اشرافیہ کی باری ہے۔ پی آئی بی گراؤنڈ میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپنی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کریں جو ضرورت مند ہیں، جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس سے لوگوں کا حوصلہ بڑھا، پوری قوم اس وقت سیسا پلائی دیوار کی طرح بن گئی ہے، سالوں تک غریب طبقے نے قربانیاں دیں، اب اشرافیہ کی باری ہے، وہ طبقہ جو ٹیکس نہیں دیتا اس کو اب ٹیکس دینا ہوگا، وڈیروں اور اشرافیہ کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں، مہنگائی اور بےروزگاری کے خاتمے کے لیے ہم نے شیڈو بجٹ پیش کیا ہے، ان ڈائریکٹ ٹیکس کو ختم کر کے ہمیں ڈائریکٹ ٹیکس لانا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈائریکٹ ٹیکس اشرافیہ کی ٹیکس نہیں

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان