لاہور، ایس پی ڈولفن کا صبح سویرے گجومتہ اور شہر بھر کے ناکہ جات کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
لاہور:
ایس پی ڈولفن ارسلان زاہد نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شہر بھر کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علی الصبح ناکہ گجومتہ کا دورہ کیا اور ڈولفن جوانوں سے ملاقات کی۔
انہوں نے مال روڈ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ سمیت سول لائن سیکٹر اور مختلف ناکہ جات کا معائنہ کیا۔
ایس پی ارسلان زاہد نے ماڈل ٹاؤن، سول لائن، مزنگ سمیت تمام اہم سیکٹرز کی ٹیموں کی چیکنگ کی اور ایلیٹ اور مجاہد اسکواڈ کے سیکیورٹی پوائنٹس کا بھی دورہ کیا، تاکہ عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ایس پی ڈولفن نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کو ہراسانی سے بچانے کے لیے ڈولفن اسکواڈ کا فرینڈلی پٹرولنگ یونٹ (FPU) فیلڈ میں موجود ہے، جو چاند رات سے لے کر عید کے دنوں تک مختلف پارکس، تفریحی مقامات اور بازاروں میں گشت کر رہا ہے۔
FPU کا مقصد شہریوں بالخصوص خواتین و بچوں کو فوری مدد اور تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پُرامن ماحول میں عید کی خوشیاں منا سکیں۔
ایس پی ارسلان زاہد نے خبردار کیا کہ عید تعطیلات کے دوران ون ویلنگ، ہلڑبازی اور خواتین پر آوازیں کسنے جیسے اقدامات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈولفن، پی آر یو، ایف پی یو سمیت تمام فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کریں۔
شہر بھر کے داخلی و خارجی راستوں پر سائنٹیفک بنیادوں پر ناکہ بندی کا مؤثر نظام ترتیب دیا گیا ہے، جہاں اشتہاری مجرمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
اہم شاہراؤں پر ایلیٹ فورس کے اسپیشل کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ڈولفن، پی آر یو اور ایف پی یو ٹیمیں اپنے جامع سیکیورٹی پلان کے تحت شہر بھر میں متحرک پٹرولنگ کر رہی ہیں۔
ایس پی ارسلان زاہد نے شہریوں سے اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع پولیس کو دیں تاکہ لاہور کو پرامن اور محفوظ رکھا جا سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ارسلان زاہد نے ایس پی
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔
حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔
کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔
کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔
مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار
ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔
انتخابی مہم عروج پرآزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟
اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن