گوادر میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوادر: بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں زلزلے کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.0 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر زیر زمین تھی۔ مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز گوادر سے 8 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ متعدد مقامات پر خوفزدہ شہریوں نے کھلے میدانوں میں پناہ لی، زلزلے کے بعد سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں میں حالیہ دنوں میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جس نے شہریوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں بھی گزشتہ چند روز کے دوران اب تک دو بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جن کی شدت بالترتیب 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زلزلے کے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔