زراعت میں پیچھے رہنے سے شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہو سکا: عارف حبیب
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
معروف صنعتکار عارف حبیب نے کہا ہے کہ پچھلے سال زراعت میں پیچھے رہنے کے باعث معاشی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا، گندم کی قیمت گرنے سے اگلی فصل کے لیے سرمایہ کاری کم رہی۔
’جیو نیوز‘ کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ پیداواری لاگت کم ہو گی تو کسان کے لیے مواقع بڑھیں گے، آئی ایم ایف بھی گندم کی سپورٹ پرائس کو جاری رکھنے کا حامی نہیں، کسان کو فصل کے لیے فنانسنگ اور اچھے بیج کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگی، نئے سال میں گروتھ کا مناسب سا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اہداف حاصل نہ کر سکے، اس وجہ سے مجموعی جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہ ہوسکا، رواں سال کسانوں کی معیشت بری طرح متاثر رہی، زرعی اجناس کی قیمتوں میں بہت کمی آئی، حکومت کو کسانوں کو زیادہ پیداوار کے لیے راضی کرنا ہوگا۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ زراعت میں ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور پیداوار بڑھائی جائے، زرعی پیداوار کے لیے کاسٹ آف پروڈکشن کو کم کیا جائے، آئی ایم ایف پروگرام زرعی اجناس کے لیے سپورٹ پرائسز کی اجازت نہیں دیتا۔
2 فیصد مقرر
اسلام آباد آئندہ مالی سال کا معاشی شرح نمو کا ہدف...
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے برسوں میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھی، مہنگائی کی وجہ سے انڈسٹریز اپنی صلاحیت کے لحاظ سے کم کام کر رہی ہیں، انڈسٹریز کے ٹیکس ریٹ میں تبدیلی ہوئی، انرجی کاسٹ بھی بڑھی، تعمیراتی سامان بنانے والی انڈسٹریز بھی اپنی پیداواری صلاحیت سے کم پر چل رہی ہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی جس وجہ سے ڈیمانڈ میں کمی ہوئی۔
عارف حبیب نے کہا ہے کہ ایسی پالیسیز بنائی جائیں کہ پروڈکٹس کی مانگ میں اضافہ ہو، انڈسٹریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کی ضرورت نہیں، صنعت نے اپنی پیداواری صلاحیت کو طلب سے مطابقت دی، پچھلے سال زراعت میں پیچھے رہے، اسی لیے معاشی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔
دوسری جانب سابق مشیرِ خزانہ خاقان نجیب نے کہا کہ گندم کی قیمت طے کرنا حکومت کا نہیں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا کام ہے، چاول کی قیمت کا حکومت تعین نہیں کرتی، چاول اوپن مارکیٹ کے اصول پر دستیاب ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال آپریشن تھیٹر میں ڈال دیا ہے، بھارت کپاس کی پیداراو دوگنا کر چکا ہے، آر اینڈ ڈی وفاقی اور صوبائی سطح پر کمزور ہے۔
خاقان نجیب نے کہا کہ پچھلے سال چاول کی ایکسپورٹس بہت زیادہ رہیں، ریسرچ بتاتی ہیں کہ چاول کی پیداوار بہت بہتر ہے، بجٹ میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے آر اینڈ ڈی کے لیے رقم مختص کرنا ہوگی، کپاس امپورٹ کرنے سے امپورٹ بل دو سے تین فیصد بڑھ جائے گا، پہلے بجٹ کا اسٹریٹی پیپر لکھا جاتا تھا، میں نے کئی بار لکھا ہے، تیل کی قیمت دنیا بھر میں کم ہے، بجلی کی قیمت کم ہوئی، شرح سود میں کمی ہوئی۔
رواں مالی سال کے اکنامک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج اقتصادی سروے پیش کریں گے۔
خاقان نجیب نے کہا کہ پاکستان کی اکنامی گروتھ کے لیے اچھی نہیں، ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے لوگوں کو ترغیب دی جائے، 78 روپے کی پیٹرولیم لیوی سے بچنے کے لیے پمپس پر کارڈ سے پے منٹ لی جائے۔
خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی موجودہ پالیسی ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو سزا دینے کی ہے، تعمیراتی شعبے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے، مارگیج فنانسنگ کو سپورٹ کیا جائے، پاکستان میں مارگیج فنانسنگ کا رجحان کافی کم ہے، مجھے مارگیج فنانسنگ میں کافی اسکوپ نظر آتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر مارگیج فنانسنگ پر توجہ دی گئی تو مثبت نتائج آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مارگیج فنانسنگ کا کہنا تھا کہ کا ہدف حاصل نہ نے کہا کہ کی قیمت کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔