آج قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 18 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس بجٹ میں دو ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے رکھا گیا ہے، جب کہ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 5 فیصد، یعنی 6 ہزار 501 ارب روپے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو 50 ارب روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے، مہتاب حیدر

محصولات کی مد میں وفاقی حکومت نے 14 ہزار 131 ارب روپے ٹیکس آمدن اور 5 ہزار 167 ارب روپے نان ٹیکس آمدن کا ہدف مقرر کیا ہے، یوں مجموعی ریونیو ہدف 19 ہزار 298 ارب روپے بنتا ہے۔ حکومت کاربن لیوی 2.

5 فیصد تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جب کہ پٹرولیم لیوی 78 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نان فائلرز کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ نان فائلرز کے لیے بینکوں سے 50 ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔

بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ دفاعی شعبے کے لیے 2 ہزار 500 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1 ہزار ارب روپے اور ریاستی اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 355 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبوں کو 8 ہزار 206 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جب کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم 3 ہزار 300 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، بجٹ اجلاس کا شیڈول بھی جاری

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، اور تمام تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح میں 2.5 فیصد کمی کی جائے گی۔ گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دیا جائے گا جبکہ پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 1 ہزار 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سبسڈی کے لیے 1 ہزار 186 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں یوٹیوبرز، فری لانسرز اور نان فائلرز پر نئے ٹیکسز نافذ کرنے کی تیاری ہے جبکہ ریٹیلرز کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ ڈیجیٹل ادائیگی پر پٹرولیم مصنوعات پر کوئی اضافی چارجز نہیں ہوں گے، البتہ نقد ادائیگی کی صورت میں فی لیٹر 2 روپے اضافی قیمت دینا ہو گی۔

بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ سول حکومت کے جاری اخراجات کے لیے 971 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج شام 5 بجے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوگا جس میں تلاوت، حدیث، نعت اور قومی ترانے کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ اور مالیاتی بل 2025 پیش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہزار ارب روپے کی تجویز کرنے کی گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ