بس کی چھت پر سوار افراد درخت سے ٹکرا گئے، 3 جاں بحق، 18 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
پنجاب میں بس کی چھت پر سوار افراد درخت سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں 3 جاں بحق اور 18 زخمی ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پنجاب کے علاقے پنڈی بھٹیاں کے قریب مظفرگڑھ سے گجرات جانے والی مسافر بس کو افسوس ناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس کی چھت پر سوار مسافر ایک درخت سے ٹکرا کر نیچے جا گرے۔
ریسکیو ٹیموں نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو مقامی اسپتال جلال پور بھٹیاں منتقل کیا، جہاں طبی سہولیات کی شدید کمی دیکھنے میں آئی۔ اسپتال میں نہ تو ادویات دستیاب تھیں اور نہ ہی مناسب طبی عملہ موجود تھا، جس کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینا پڑی۔
جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق سندھ سے ہے۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ مسافروں کا بس کی چھت پر سفر کرنا اور درخت سے ٹکرانا بنی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بس کی چھت پر
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔