جیکب آباد کی ترقی کو افسران نے ٹھکانے لگاکر اپنی جیبیں بھرلیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد کی ترقی کو افسران نے ٹھکانے لگا کر اپنی جیبیں بھر لیں،بھاری رشوت کے عیوض بنا کام کے ٹھیکیداروں کو کروڑوں کی پیشگی ادائیگیوں کا انکشاف،صرف ایک مہینے میں 41 کروڑ 52لاکھ سے زائد کا سرکاری خزانے سے صفایہ ، افسران کی عید ہوگئی ، 32کروڑ 73لاکھ باقی رہ گئے،رواں مالی سال ضلع کے ترقیاتی منصوبوں پر 2ارب 83 کروڑ 10لاکھ خرچ دکھایا گیا ۔تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع ترقی نہ ہونے کی وجہ کھنڈر بن گیا ہے ترقی کی بجٹ کے اربوں روپے ہر سال افسران بااثر شخصیات کی ملی بھگت سے کاغذوں میں خرچ دکھا سرکاری خزانے کی بلا خوف لوٹمار میں مصروف ہیں کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں وفاقی ،صوبائی حکومت ،تحقیقاتی اداروں کی سرکاری خزانے سے ہرسال اربوں کی لوٹمار پر مجرمانہ خاموشی کی وجہ ضلع کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے جیکب آباد کی ترقی کو افسران ٹھکانے لگا کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ،رواں مالی سال بھی بھاری رشوت کے عیوض بنا کام کے سفارشی ٹھیکیداروں کو پیشگی ادائیگی کا انکشاف ہوا ہے صرف ایک مہینے میں جیکب آباد کے محکمہ ہائی وئے ،بلڈنگز ،پبلک ہیلتھ ، آبپاشی اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی بجٹ سے 41 کروڑ 52لاکھ 85ہزار سے زائد کا سرکاری خزانے سے صفایا کیا گیا اس طرح افسران کی عید ہو گئی ہے جبکہ سڑک کہاں تعمیر ہوئی کسی کو معلوم نہیںضلع میں ترقی ناپید ہے سرکاری خزانے میں باقی 32کروڑ 73لاکھ 22ہزار سے زائد رہ گئے ہیں جنکو رواں ماہ جون میں اڑانے کیلیے فرضی بلوں کی تیاری کے لئے افسران و عملہ نجی بنگلوں میں مصروف ہیںذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں سے معاملات طے کئے جارہے ہیںاور اضافی بجٹ کے اجراکیلیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں ،رواں مالی سال 2024/25ء میں اب تک ضلع کے ترقیاتی منصوبوں پر 2ارب 83کروڑ 10لاکھ 57ہزار سے زائد خرچ کیا گیا ہے یہ اخراجات محکمہ ہائی وے ، بلڈنگز،پبلک ہیلتھ ،آبپاشی ،سالانہ ترقیاتی پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ہیں جبکہ بلدیہ ،ضلع کونسل ،یونین کونسل،ایجوکیشن ورکس ،پرانشل بلڈنگز ، مشینری اینڈ مینٹیننس اور دیگر محکموں کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری خزانے جیکب ا باد
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔