عمرہ ویزہ کیلئے ہوٹلز کی بکنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ ہوٹل ووچر کی فیڈنگ کے بغیرعمرہ ویزہ جاری نہیں ہوگا۔ ٹرانسپورٹ کا ووچر بھی سسٹم میں فیڈ کرنا ضروری ہوگا۔ عمرہ زائر کی حرمین شریفین میں نقل و حرکت کا خاکہ پیش کرنا ہوگا۔ وزات کا عملہ فزیکل معائنہ کیا کرے گا۔ وزارت اس کیلئے علیحدہ ٹیمیں تشکیل دے رہی ہے۔ زائرین کی ایک شہر سے دوسرے شہر نقل و حرکت کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ نئے عمرہ سیزن کا آج سے آغاز ہو گیا۔ عمرہ ویزہ آج سے جاری ہو سکے گا۔ سعودیہ میں داخلہ یکم محرم سے ہو گا۔ سعودی وزارت الحج نے نئی عمرہ پالیسی کی تفصیلات جاری کر دیں۔ عمرہ ویزہ کیلئے ہوٹلز کی بکنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ ہوٹل ووچر کی فیڈنگ کے بغیرعمرہ ویزہ جاری نہیں ہوگا۔ ٹرانسپورٹ کا ووچر بھی سسٹم میں فیڈ کرنا ضروری ہوگا۔ عمرہ زائر کی حرمین شریفین میں نقل و حرکت کا خاکہ پیش کرنا ہوگا۔ وزات کا عملہ فزیکل معائنہ کیا کرے گا۔ وزارت اس کیلئے علیحدہ ٹیمیں تشکیل دے رہی ہے۔ زائرین کی ایک شہر سے دوسرے شہر نقل و حرکت کی نگرانی بھی کی جائے گی۔

سعودی وزارت الحج نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ مکہ مدینہ کے صرف رجسٹرڈ اور منظورشدہ ہوٹلز بک ہو سکیں گے۔ انہیں ہوٹلز کی بکنگ فیڈ کئے گئے ووچر کے بعد ویزے کا اجراء ممکن ہو سکے گا۔ سعودی وزارت کا کہنا ہے قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہوگی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کیساتھ کمپنی کی بندش اور عمرہ ویزہ کی مستقل پابندی شامل ہے۔ عمرہ ویزہ کیلئے عمرہ کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ آج سے عمرہ ویزہ کو اجراء 15 شوال تک جاری رہے گا۔ حجاج کرام کی واپسی یکم محرم سے قبل تک یقینی بنانے کے بعد یکم محرم سے عمرہ زائرین کو سعودی عرب آنے کی اجازت ہوگی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمرہ ویزہ کی یکم محرم سے نقل و حرکت

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے