جامعہ این ای ڈی کے تحت آج سے داخلہ ٹیسٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔

آج بتاریخ 11 جون ٹیسٹ کی دو شفٹیں منعقد کی جائیں گی جس میں سولہ سو طالب علم شریک ہوں گے۔ مجموعی رجسٹریشن کے اعتبار مختلف شفٹوں میں کُل نو ہزار چھ سو طالب علموں کی ٹیسٹ میں شرکت کی توقع کی جارہی ہے۔

بعد ازاں داخلہ ٹیسٹ کے دوسرے مرحلے کا اعلان بذریعہ ویب سائٹ کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق