’اوقات سے زیادہ مل جائے تو یہی ہوتا ہے‘، رجب بٹ کو تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اپنی شادی پر بے تحاشا پیسے خرچ کرکے لائم لائٹ میں آنے والے مقبول پاکستانی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا کی مشہور شخصیت رجب بٹ ایک بار پھرخبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی بھانجی کے عقیقہ کی تقریب میں دولت کی بڑھ چڑھ کر نمائش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس میں رجب بٹ اپنے خاندان کے ہمراہ اکلوتی بھانجی آیت زہرا کے عقیقہ میں شامل تھے، اس تقریب میں یوٹیوبر کی فیملی سمیت کئی دیگر دوست احباب بھی شامل تھے جو آیت زہرا پر پیسوں کی برسات کر رہے تھے۔
View this post on Instagram
A post shared by Pakistani.
ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو صارفین نے انہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیسہ حلال کا ہوتا تو اس طرح نہ اڑایا جاتا جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ عقیقہ نہیں ہے اور نہ ہی سنت کا طریقہ ہے۔ محسن اکرام نے لکھا کہ دولت کی نمائش کیوں کی جا رہی ہے۔
سدرہ آرائیں لکھتی ہیں کہ کچھ لوگ اتنے ذہنی غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس صرف پیسے ہی ہوتے ہیں، کئی صارفین نے دولت کی نمود و نمائش پر رجب بٹ اور ان کے خاندان کو جاہل قرار دے دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ جب اوقات سے زیادہ مل جائے تو یہی ہوتا ہے جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ عقیقہ پر اڑائے جانے والے پیسے نقلی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یوٹیوبر رجب بٹ کی شادی کے موقع پر ان کے دوست احباب نے بے تحاشاپیسے لٹائے اور مہنگے تحائف بھی دیے گئے جن میں ایک عدد شیر کا بچہ، کلاشنکوف، گولڈ پلیٹڈ آئی فون اور ڈالرز کا گلدستہ بھی شامل تھا۔ ٹک ٹاکر کو غیر قانونی طور پر شیر کا بچہ اور لائسنس کے بغیر کلاشنکوف رکھنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیاگیا۔ رجب بٹ کی شادی کی تقریب میں دولت کی نمائش پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رجب بٹ رجب بٹ بھانجی رجب بٹ بھانجی عقیقہ رجب بٹ شادی عقیقہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رجب بٹ بھانجی رجب بٹ بھانجی عقیقہ دولت کی
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔