Daily Ausaf:
2026-06-03@07:49:25 GMT

جب تین پیسے کا اضافہ بھی اہم تھا

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

جب سے ہوش سنبھالا، ہر جون میں پاکستان کا وفاقی بجٹ ایک تہوار کی طرح پیش ہوتے دیکھا—جس کا انتظار اُتنی ہی بے چینی اور اُمید سے کیا جاتا تھا جتنی کسی بڑے قومی موقع کا۔ کاروباری طبقہ اسے تیز نگاہوں سے دیکھتا؛ کون سی اشیاء پر نیا ٹیکس لگے گا؟ کون سے محصولات منڈی کی سمت بدل دیں گے؟ جبکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز اس اُمید میں ہوتے کہ شاید اس بار تنخواہوں اور پنشنز میں کچھ اضافہ ہو جائے۔
بجٹ سے پہلے کے دن قیاس آرائیوں سے بھرے ہوتے۔ کچھ کاروباری حضرات تو محض اپنے گوداموں میں موجود اسٹاک کی بدولت یکدم امیر ہو جاتے کیونکہ حکومت کی نشستوں سے اعلان ہونے والے نئے محصولات ان اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے۔
اُس وقت وزیرِ خزانہ کی بعد از بجٹ پریس کانفرنس بڑی سنجیدگی سے دیکھی جاتی۔ ہر لفظ کو صنعتکاروں اور ماہرینِ معیشت کے ہاں بڑی اہمیت دی جاتی۔ قومی اسمبلی میں بھاری بھرکم بجٹ کتب تقسیم ہوتیں—اعداد و شمار اور تمناؤں سے لبریز۔ اگرچہ اراکینِ اسمبلی میں کم ہی لوگ ہوتے جو انہیں بغور پڑھتے، مگر صحافیوں اور پارلیمانی محققین کے لیے یہ خزانے کی مانند ہوتیں جن سے وہ کئی ہفتے مواد کشید کرتے۔
مگر وقت تیز رفتاری سے گزر گیا۔ بجٹ—جو کبھی ایک نازک ریاستی حکمتِ عملی اور عوامی جذبات کا توازن ہوتا—اب ایک ایسا دیو بن چکا ہے جس کی جسامت کو لوگ محض بیزاری سے دیکھتے ہیں۔ وہ دور بیت گیا جب محض چند پیسوں کے اضافے پر مباحثے اور میڈیا میں ہنگامہ کھڑا ہو جاتا۔ معمولی قیمتوں میں ردوبدل بھی کبھی عوامی احتجاج یا پُرجوش دفاع کا باعث بنتا تھا۔ وہ معصومیت—یا شاید وہ چوکسی—اب معدوم ہے۔
حال ہی میں قومی اسمبلی کے سابق لائبریرین اور پارلیمانی تاریخ کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا، محترم نعیم صدیقی صاحب کے ساتھ نشست ہوئی، جس میں ماضی کے بجٹوں کی یادیں تازہ ہوئیں—جب بجٹ صرف مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ انسانی کہانیاں ہوتی تھیں۔ انہوں نے ایوب خان کے دور کا ایک واقعہ سنایا، جب محمد شعیب وزیر خزانہ تھے۔ ایک بنگالی رکن، جن کا نام افسرالدین احمد خان تھا، نے ایوان میں شکایت کی کہ کوکا کولا جو پہلے 50 پیسے میں ملتی تھی، اب 53 پیسے کی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’شاید آپ کو معلوم نہ ہو، کیونکہ آپ تو یہ سرکاری ضیافتوں میں پیتے ہیں۔ ہم تو اپنی جیب سے پیتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ سادہ مگر سچائی سے بھرپور تھا۔ اُس وقت منڈی کی قیمتیں روزانہ نہیں بلکہ ریاستی فیصلوں کے تحت تبدیل ہوتیں۔
وزیر خزانہ شعیب صاحب شاید اس خاص تنقید سے کچھ پریشان ہوئے، تو جواب دیا کہ ”صرف ایک شے، یعنی پوسٹ کارڈ، جس کی قیمت تین پیسے تھی، اب پانچ پیسے کر دی گئی ہے۔” مگر یہ معمولی اضافہ بھی شدید ردعمل کا باعث بنا۔ جب مٹی کے تیل کی بوتل کی قیمت 25 پیسے سے بڑھ کر 28 پیسے ہوئی، تو مشرقی پاکستان کے ایک مزدور رہنما اور ٹریڈ یونینسٹ محبوب الحق نے بڑی فصاحت سے اعتراض کیا۔ انہوں نے ایوان کو یاد دلایا کہ پوسٹ کارڈ محض تجارتی وسیلہ نہیں، بلکہ سماجی اور جذباتی ربط کا ذریعہ ہے۔’’جو لفافے میں خط بھیج سکتے ہیں، وہ افورڈ کر سکتے ہیں۔ مگر غریب پوسٹ کارڈ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور موقع پر، جب مٹی کے تیل کی قیمت میں صرف تین پیسے کا اضافہ کیا گیا، تو محبوب الحق پھر بولے۔ ان کا استدلال آج کے دور میں کم ہی سننے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی جھونپڑیوں میں جہاں مٹی کے تیل کے چراغ ہی واحد روشنی کا ذریعہ ہیں، وہاں یہ اضافہ نہ صرف چراغ بجھائے گا، بلکہ اُمید کو بھی۔ ’’جب چراغ نہ جلیں، تو خاندانی منصوبہ بندی پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے ضائع ہو جائیں گے۔‘’ ان کی دلیل سے وزیر خزانہ قائل ہوئے اور تین پیسے کا اضافہ واپس لے لیا گیا۔
ماضی کے ان بجٹوں اور آج کے مالیاتی دیو ہیکل بجٹوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایوب خان کے دور میں بجٹ 2 سے 3 ارب روپے کے درمیان ہوتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یہ 20 ارب سے تجاوز کر گیا، کیونکہ قومیانے کے عمل نے ریاستی کردار بڑھایا۔ جنرل ضیائالحق کے عہد میں بجٹ تقریباً 100 ارب تک پہنچ گیا، جو بڑھتی ہوئی ریاستی مشینری اور عالمی امداد کا عکس تھا۔
1990 کی دہائی میں، جمہوری دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے بجٹ 300 ارب سے اوپر چلے گئے۔ جنرل مشرف کے دور میں معیشت کی لبرلائزیشن ہوئی، اور بجٹ ایک کھرب سے بھی تجاوز کر گیا۔ 2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اختتام پر بجٹ 3 کھرب روپے سے بڑھ چکا تھا۔ عمران خان کے دور میں یہ 7 کھرب سے بھی اوپر پہنچ گیا، جس کی بڑی وجوہات قرضوں کی واپسی، دفاعی اخراجات، اور کورونا سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ تھے۔
اب موجودہ سال میں وفاقی بجٹ 18 کھرب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے—یہ وہ عدد ہے جو کبھی ناقابلِ تصور تھا۔ اس میں سے صرف قرضوں کی ادائیگی پر 9.

5 کھرب روپے خرچ ہو رہے ہیں—جو ماضی کے قرضوں کا بوجھ ہے۔ دفاعی اخراجات 2.1 کھرب کے قریب ہیں، سبسڈیز 1.4 کھرب کے لگ بھگ، اور ترقیاتی بجٹ کو اس کے تقاضوں سے کہیں کم حصہ دیا جا رہا ہے۔ تنخواہیں، پنشنز اور صوبوں کو گرانٹس باقی مالیاتی منظرنامہ مکمل کرتے ہیں۔ اس سب کے باوجود، عام آدمی کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ گلیوں میں بے چینی ہے، دکان دار فکرمند ہے، تنخواہ دار طبقہ مایوس ہے۔
یہ یادداشتیں اور موازنات صرف ماضی پر نوحہ نہیں بلکہ حال کا آئینہ ہیں۔ آج کا بجٹ، اپنے بے شمار اعداد و شمار اور پیچیدہ اصطلاحات کے باوجود، کیا واقعی زیادہ انسان دوست ہے؟ کیا اس کے معمار آج بھی کسی دیہی گھرانے، کسی چراغ یا کسی پوسٹ کارڈ کے جذبات سے آشنا ہیں؟
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ کیا آج کا وفاقی بجٹ اب بھی ان لوگوں کی خدمت کرتا ہے جن کے لیے یہ بنایا جاتا ہے؟ یا یہ صرف ایک عددی مشق رہ گیا ہے، جو ان حقائق سے کٹ چکی ہے جو کبھی ہر پیسے کی قیمت بناتے تھے؟ بجٹ صرف ریاضی کا نہیں، ضمیر کا معاملہ ہے۔ جب حکومت ٹیکس بڑھائے، تو عوام کا اعتماد بھی بڑھائے۔ جب وہ ریلیف کا اعلان کرے، تو وہ کاغذ سے نکل کر عام آدمی کی زندگی میں محسوس بھی ہو۔
ماضی کے وہ خالص مباحث یاد کرنے کا مقصد محض سادگی کے دور کو یاد کرنا نہیں، بلکہ آج کے نظامِ حکومت کو وقار کی یاد دلانا ہے۔ بجٹ کو محض عددی رسم نہ بننے دیں بلکہ ایک قومی عہد نامہ بنائیں—ایسا جو اُن لوگوں کے دلوں سے مخاطب ہو، جو اندھیروں میں چراغ جلاتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے دور میں پوسٹ کارڈ انہوں نے تین پیسے ماضی کے کی قیمت بلکہ ا

پڑھیں:

پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ

 ملک بھر میں فی تولہ سونےکی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک تولہ سونا 4600 روپے اضافے کے بعد اب 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ10گرام سونے کی قیمت3944 روپےبڑھ کر 4 لاکھ8 ہزار 403 روپے ہوگئی ہے۔عالمی بازار میں سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار