وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کردیے ۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس بار آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 ارب 90 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں 4 اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت نے فنڈز جاری کر دیے۔
آزاد کشمیر کے 4 ترقیاتی منصوبوں کے لیے پانچ ارب 90 کروڑ روپے کی ادائیگی کی منظوری بھی دے دی گئی ۔
یو ای ٹی کے اے کلاس ملازمین اور اساتذہ کیلئے مالی امداد کی منظوری
آزاد کشمیر کے 4 ترقیاتی منصوبے
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 1 ارب 47 کروڑ روپے مختص کیے گئے ۔
رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر کے لیے 3 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی ۔
میرپور ایم بی بی ایس میڈیکل کالج کے لیے 1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
میر واعظ محمد فاروق شہید میڈیکل کالج مظفرآباد کے لیے 42 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
محکمہ بلدیات نے480ارب کی ترقیاتی سکیموں کا بجٹ تیار کرلیا
وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو آزاد کشمیر حکومت کے لیے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔ فنڈز جاری کرنے کی باضابطہ منظوری فنانس ڈویژن کی 2 جون 2025 کی ہدایت کے تحت دی گئی۔
وزارت خزانہ کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ترقیاتی فنڈز رواں مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے تحت جاری کیے گئے۔ منظور شدہ فنڈز کا کیش ادائیگی سے تعلق نہیں، بجٹ میں ایڈجسٹمنٹ کے تحت منتقل کیے جائیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں آزاد کشمیر کے وفاقی حکومت کی منظوری کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔