سندھ میں بیٹھے متکبر لوگ اہل سندھ پر رحم کھائیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سندھ میں بیٹھے متکبر لوگوں کو اہل سندھ کے حال پر رحم کھانا چاہیے۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کے بیان ردعمل میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سندھ کے لوگ بھی مریم نواز کے طرز حکومت کے دیوانے ہیں، یہی آپ کا اصل مسئلہ ہے۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ پنجاب کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئیں، جن سے کارکردگی میں مقابلہ کریں، جلنے کڑھنے اور بیان بازی کا کوئی فائدہ نہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ تکبر اور غرور سے بھرے وہ لوگ ہیں جو ایک صوبے میں مسلسل اقتدار میں ہیں اور کارکردگی زیرو ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں بیٹھے متکبر لوگوں کو سندھیوں کے حال پر رحم کھانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔