تاریخ تبدیل:پنجاب کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل کر دی ہے، پہلے یہ بجٹ 13 جون کو پیش کیا جانا تھالیکن اب یہ 16 جون کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے، کچھ اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت درکار ہے، جس کے باعث تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ایک ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جس میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی گنجائش نہیں، اسی لیے ریلیف پر مبنی بجٹ ترتیب دیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیح صحت، تعلیم، زراعت، اور روزگار کے شعبوں میں ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دینا ہے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔
خیال رہےکہ دیگر صوبوں کے بجٹ بھی رواں ماہ پیش کردیے جائیں گے، سندھ حکومت کی جانب سے بجٹ 14 جون 2025 کو پیش کیے جانے کا امکان ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے اپنا بجٹ 21 جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بلوچستان حکومت کے بجٹ کی تاریخ 19 جون مقرر کی گئی ہے۔
ملک کے چاروں صوبوں میں بجٹ سازی کا عمل جاری ہے اور تمام حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ موجودہ مالی دباؤ کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے کو پیش جون کو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔