Express News:
2026-07-24@06:32:39 GMT

حکومت پنجاب نے 1200 ارب کا ترقیاتی بجٹ تیار کرلیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

لاہور:

پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26 کیلیے 1200 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تیار کر لیا ، محکمہ ترقیاتی و منصوبہ بندی نے یہ بجٹ ڈرافٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردیا. 

رواں مالی سال کے مقابلے میں آئندہ مالی سال میں بھی صوبے کی تاریخ کاسب سے بڑے حجم کا سر پلس بجٹ ہوگا ، وزیراعلیٰ نے بجٹ میں نئے ٹیکسز عائد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹیکس کا دائرہ بڑھایا جائے.

 

ذرائع کے مطابق پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 1200 ارب روپے تجویز کیے جانے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وزیراعلی پنجاب اسکولز میل پروگرام کیلیے 9 ارب ، وزیراعلی ٹریکٹر پروگرام کیلیے 10 ارب ، زراعت ہاؤس کی تعمیر و مرمت کیلیے 75 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے اور یہ منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائیگا. 

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں وفاق کی پیروی کیے جانے کا امکان ہے، تعلیم کے ترقیاتی بجٹ کیلیے 110 ارب روپے ، صحت کے بجٹ میں 90 ارب روپے اضافے کی تجویز دی ہے. 

پنجاب حکومت کی جانب سے سیاحت پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس تناظر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 600 فیصد اضافہ متوقع ہے.

دوسری جانب چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کی تمام تجاویز مسترد کر دی اور ہدایت کی کہ موجودہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے تاکہ عوام پر نیا بوجھ نہ پڑے۔

واضح رہے کہ پنجاب کی حکومت نے صوبائی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل کردی ہے، اب مالی سال 26-2025 کا صوبائی بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کردیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ترقیاتی بجٹ مالی سال ارب روپے کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ