بجٹ آئی ٹی انڈسٹری کو تباہ کر دے گا، سافٹ ویئر ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین سجاد مصطفی سید نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ آئی ٹی انڈسٹری کو تباہ کر دے گا۔ سجاد مصطفی سید کا کہنا تھا کہ پاشا آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق وفاقی بجٹ کو مسترد کرتی ہے، یہ بجٹ آئی ٹی انڈسٹری کو تباہ کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف 2 بنیادی تجاویز دی گئیں، انہیں بھی نظر انداز کر دیا گیا، پہلی اہم ترین تجویز فکسڈ ٹیکس رجیم کا 10 سالہ اعلان تھا۔چیئرمین پاشا کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کا یقینی ہونا اعلان کردہ 70 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کو ممکن بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری اہم تجویز ریموٹ ورکرز اور آئی ٹی کمپنیز کے انکم ٹیکس کو یکساں کرنا تھا، اسے بھی نظر انداز کر دیا گیا، مزید کہنا تھا کہ آئی ٹی کمپنی ملازمین اور ریموٹ ورکرز پر یکساں انکم ٹیکس کا اطلاق کیا جائے۔سجاد مصطفی سید نے کہا کہ ریموٹ ورکرز پر صرف ایک فیصد انکم ٹیکس ہے جبکہ آئی ٹی کمپنی ملازمین پر 30 فیصد تک بھی انکم ٹیکس لاگو ہے۔چیئرمین پاشا کا کہنا تھا کہ مستقل پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو پاکستان میں انویسٹمنٹ لانا ناممکن ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ٹی انڈسٹری کہنا تھا کہ انکم ٹیکس
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔