ایک مخلوق ایسی ہے جو پاکستان میں اچھی خبروں پر خوش نہیں ہوتی،وزیراطلاعات پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور:
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ایک مخلوق ایسی ہے جو پاکستان میں اچھی خبروں پر خوش نہیں ہوتی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان میں موسم گرم ضرور ہے لیکن خوشیوں کا موسم ہے۔ پنجاب حکومت کو کامیابیاں ملی ہیں اور بہت سارے لوگوں کو تکلیفیں بھی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل وفاقی حکومت کا بجٹ پیش کیا گیا، جس میں تنخواہ دار طبقے پر پچھلے بجٹ میں بوجھ ڈالا گیا تھا۔ اس مرتبہ وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ملک میں ایک مخلوق ایسی بھی ہے کہ پاکستان میں خوشخبری آئے تو وہ خوش نہیں ہوتے۔ کل بھی قومی اسمبلی میں نظارہ سب نے دیکھا۔ جنہوں نے چاہا پاکستان سری لنکا بن جائے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ابھی ابھی میں نے دیکھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں 2100 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف وہ پارٹی ہے جنہوں نے اس ملک کے لیے کام نہیں کرنا۔ اب کہہ رہے ہیں واشنگٹن چلو۔ گوہر خان کہتے ہیں ہم نے تو کمپین نہیں چلائی۔ یہ چند یوٹیوبر باہر بیٹھ کر شور مچاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ یہ بات کیوں نہیں کرتے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب تنخواہ نہیں لیتے۔ ہم جیسے متوسط طبقے کے لوگ بھی سیاست کرتے ہیں۔ پھر ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے کہ سیاست کے ساتھ بزنس بھی کریں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان میں نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔