کوئٹہ، مبینہ سیاحوں کی فائرنگ سے ہنہ اوڑک کے مقامی رہنماء قتل
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اہل علاقہ کا دعویٰ ہے کہ مقامی رہنماء نجیب کاکڑ نے مقامی روایات کی پامالی پر سیاحوں کی سرزنش کی، جس پر سیاحوں نے ان پر فائرنگ کی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سیاحتی علاقے ہنہ اوڑک کے مقامی رہنماء کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اہل علاقہ کا دعویٰ ہے کہ مقامی رہنماء نجیب اللہ کاکڑ پر گزشتہ شب سیاحوں نے اس وقت فائرنگ کی جب نجیب کاکڑ نے مقامی روایات کی خلاف ورزی پر ان کی سرزنش کی۔ اہل علاقہ نے علاقے میں نظم و ضبط اور روایات کو قائم رکھنے کے لئے سیاحوں کے لئے متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔ جن پر عملدرآمد کروایا جاتا تھا۔ تاہم گزشتہ شب بعض نامعلوم سیاحوں نے ان روایات کی خلاف ورزی کی۔ جس پر مقامی رہنماء نجیب کاکڑ ان کی سرزنش کے لئے گئے۔ تاہم مذکورہ سیاحوں نے مقامی رہنماء پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں نجیب کاکڑ جان بحق ہو گئے۔ ہنہ اوڑک کے رہائشیوں نے علاقے کو سیاحوں کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقامی رہنماء نجیب کاکڑ سیاحوں نے کے لئے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔