معاشی استحکام کیلئے ایس آئی ایف سی کی کاوشیں رنگ لے آئیں، منرلز کمپلیکس قائم
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز)معاشی استحکام کیلئے ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے باعث منرلز کمپلیکس کا قیام کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی کے تعاون سے معدنیات کی ایکسپلوریشن کے لیے منرلز کمپلیکس قائم کر دیا گیا
انفال گروپ کے تحت منرلز کمپلیکس کا قیام عمل میں لایا گیا، ایس آئی ایف آئی اور حکومت پنجاب کی قریبی ہم آہنگی کے ذریعے 150 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری سے انفال گروپ کو ورک آرڈر جاری کر دیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان کی کیمیکل درآمدات میں سالانہ 2.
سی ای او انفال سیمنٹ لمیٹڈ، زاہد ندیم نے کہا کہ ا نفال سیمنٹ لمیٹڈ کو راک سالٹ ایکسپلوریشن لائسنس حاصل کرنے میں ایس آئی ایف سی کی بھرپور معاونت قابلِ تحسین ہے، یہ منصوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کریگا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا،رپورٹ طلب
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی منرلز کمپلیکس
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔