بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ نے ایک سچے اور مضبوط دوست کا کردار ادا کیا جسے پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا، سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ نے ایک سچے اور مضبوط دوست کا کردار ادا کیا جسے پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا، سینیٹر عرفان صدیقی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاک ترکیہ دوستی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور سلامتی اور دفاع سمیت باہمی تعاون کے نئے امکانات دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ نے ایک سچے اور مضبوط دوست کا کردار ادا کیا جسے پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا۔
ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ کے سینیئر راہنما اور سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے ترکیہ کے سفیر عزت مآب ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو سینیٹ سی بلاک میں اُن سے ملاقات کی۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے ترکیہ کے سفیر کا اپنے دفتر آمد پر انتہائی گرم جوشی سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صدر طیب اردوان اور وزیر اعظم شہباز شریف کی دوستی دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ہم بھارت کی طرف سے ترکیہ پر الزامات اور ترک کمپنیوں کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے لیکن بھارت کو دوٹوک انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ ہم اُسکی بالا دستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اسکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ سینیٹر صدیقی نے کہا کہ پاکستان جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ دنیا اب جان چکی ہے کہ امن کاد شمن کون ہے۔
کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل کئے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں۔ ترکیہ کے سفیر عزت مآب ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ پاکستان میں آکر مجھے یہ ہرگز نہیں لگا کہ میں کسی اور ملک میں آیا ہوں۔ یہاں مجھے اپنے ہی ملک اور اپنے ہی گھر کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ ترکیہ کے سفیر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو اب باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے نئے ٹھوس ادارہ جاتی اقدامات کرنے چاہئیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت کی تحسین کرتے ہوئے ترکیہ کے سفیر نے کہا کہ شہباز شریف ترکیہ کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد دوست ہیں۔ اُن کی قیادت میں ہمارے باہمی تعلقات میں بہت مضبوطی آئی ہے اور وہ ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ ترکیہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاس اینجلس میں پرتشدد واقعات کے پیچھے امریکی صدر اور گورنر کیلیفورنیا کی مخالفت ہے ، محمد عارف ہم آج بھی پی ٹی آئی کی بچھائی بارودی سرنگیں ہٹا رہے ہیں، احسن اقبال وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے بھارت میں 250 مسافروں سے بھرا ائیر انڈیا کا طیارہ تباہ جدہ: چوہدری حسنین گوندل اور چوہدری امجد گجر کی جانب سے عید ملن پارٹی، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت ریکارڈ پر ریکارڈ قائم! سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 26 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایف آئی اے کو فرحت اللہ بابر کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی نے ترکیہ کے سفیر شہباز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔