پاک بھارت کشیدگی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پھر بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ روکی جس پر پوری ری پبلک پارٹی کو کریڈٹ دینا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں نے تجارت کے ذریعے پاک بھارت جنگ روکی، پاکستان اور بھارت نے میری بات کو سمجھا، دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے کوئی بات نہیں کررہا تھا لیکن یہ بڑا کام تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ شروع ہونے والی تھی، پاکستان اور بھارت کی قدر کرتا ہوں، دونوں ملکوں سے کہا کہ اگر جنگ کرو گے تو تجارت نہیں ہوگی، پاکستانی وفد آئندہ ہفتے تجارت پر گفتگو کرنے امریکا آرہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ روکنے پر فخر ہے، دونوں ملکوں کے پاس خطرناک تعداد میں جوہری ہتھیار ہیں، میرے خیال میں جنگ روکنے پر پوری ری پبلک پارٹی کو کریڈٹ دینا چاہیے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بہت قریب تھے، اب بھی ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات کم ہیں،ایران کو خوشحال کرنے میں مدد کریں گے۔
اس موقع پر امریکی صدر نے ایلون مسک کی جانب سے تحفے میں دی گئی گاڑی کی تعریف کی اور کہا کہ مجھے ٹیسلا پسند ہے اور ایلون مسک مجھے پسند کرتے ہیں، الیکٹرک گاڑیوں پر ایلون مسک سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ مجھے پسند نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ایران بھارت پاکستان جنگ بندی جوہری ہتھیار ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران بھارت پاکستان جوہری ہتھیار ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت ایران کے ساتھ امریکی صدر پاک بھارت کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔