پاکستانی وفد آئندہ ہفتے تجارت پر گفتگو کے لیے امریکہ آرہا ہے، صدر ٹرمپ کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ پاکستانی وفد آئندہ ہفتے تجارت پر گفتگو کے لیے امریکہ آرہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کی جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیا اور کہا میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تجارت کو استعمال کر کے پاکستان اور انڈیا کی جنگ رکوائی۔ انہوں نے کہا مجھے پاکستان بھارت جنگ روکنے پر فخر ہے ، ٹرمپ نے کہا پاکستان اور بھارت کے پاس خطرناک تعداد میں جوہری ہتھیارہیں۔ ٹرمپ نے کہا، میرے خیال سے جنگ روکنے پر پوری ریپبلکن پارٹی کو کریڈیٹ دینا چاہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کا ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن
ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے تناظر کو سمجھے بغیر یا اس کو نظر انداز کرتے ہوئے معاملات کو حقیقت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کیا اور صحافیوں سے کہا، ہم پاکستان اور بھارت کو اکھٹا کرلیں گے ، میں نے پاکستان بھارت کو کہا ہے کہ بہت لمبی دشمنی ہوگئی ہے ، میں نے کہا ہے کہ میں کوئی بھی مسلہ حل کرسکتا ہوں۔میں نے پاکستان اور بھارت سے کہا تھا کتنا عرصہ لڑو گے۔
ٹرمپ نے کہا 2000 سال سے پاکستان اور بھارت لڑ رہے ہیں ، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ شروع ہونے والی تھی ، میں نے پاکستان اور بھارت سے کہا کہ اگر جنگ کرو گے تو تجارت نہیں ہوگی۔پاکستان اور بھارت نے میری بات کو سمجھا۔میں نے تجارت کے ذریعے پاک بھارت جنگ روکی۔ ٹرمپ نے کہا، پاک بھارت جنگ رکنے پر کوئی بات نہیں کررہا لیکن یہ بڑا کام تھا ۔
سدھو موسے والاکو قتل کیوں کیا گیا؟گینگسٹر گولڈی برار نے پہلی بار حقائق بتا دیے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیریٹو سے قدرے مختلف پاکستان کا نکتہ نظر یہ ہے کہ پاکستان کی سویلین اور اس کے بعد فوجی تنصیبات پر بھارت کے بلا اشتعال حملوں کے بعد پاکستان کی فوج نے بھارت کو پہلی مرتبہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب محدود اور نو اور دس مئی کی درمیانی شب پوری فوجی طاقت کے ساتھ جواب دیا تو بھارت کی قیادت نے جنگ رکوانے کے لئے امریکہ کی حکومت سے رابطہ کیا تھا۔
پاکستان یہ جنگ بڑھانا نہیں چاہتا تھا، دس مئی کی صبح ہی پاکستان نے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ہی ڈپلومیٹک ذرائع سے یہ پیگام دنیا کی اہم قوتوں تک پہنچا دیا تھا کہ پاکستان جنگ بڑھانا نہیں چاہتا اور اگر پاکستان کے جوابی حملوں کے بعد اندیا کی طرف سے کوئی جواب آیا تو پاکستان جنگ میں کسی بھی حد تک جائے گا۔
وسیم اکرم نے اپنے مجسمے پر ردعمل، اہم پوسٹ شیئر کردی
اس کے بعد جب صدر ٹرمپ کی طرف سے بھارت کے ساتھ جنگ روکنے کے پیگام رسانی کی گئی تو پاکستان نے کسی تجارتی مفاد کو پیش نظر رکھے بغیر اسے قبول کیا تھا کیونکہ یہ دراصل پاکستان کا ہی نکتہ نظر تھا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کی مستقل وجہ کشمیر کا حل طلب تنازعہ ہے۔ صدر ٹرمپ جب بھی پاکستان اور بھارت کی قیادت کو تنازعات حل کرنے کے لئے کہین گےتو پاکستان دیگر تمام مسائل کے ساتھ اولین مسئلہ کشمیر پر ہی بات کرے گا۔
ویڈیو؛ ماہرہ خان کے کلاسیکل ڈانس کے سوشل میڈیا پر چرچے
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت نے پاکستان بھارت کے کے ساتھ کے بعد نے کہا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔