خیبرپختونخوا،تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات ( بجٹ کے بائیکاٹ کا خدشہ)
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بجٹ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر منظور کرایا گیا تو اس کا بائیکاٹ کریں گے، شکیل خان کی میڈیا سے گفتگو
کئی اراکین اسمبلی کنفیوژن کا شکار، کہ آیا بجٹ بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر پیش کیا جائے یا نہیں،پارٹی ذرائع
خیبرپختونخوا حکومت 13 جون کو مالی سال 26-2025 کے بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے تاہم اندرونی اختلافات کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض گروہ اور دیگر متعدد اراکین اسمبلی نے بجٹ سے بائیکاٹ کی تیاری شروع کر دی ہے۔سابق صوبائی وزیر شکیل خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بجٹ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر منظور کرایا گیا تو وہ اس کا بائیکاٹ کریں گے، خدشہ ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط پر تیار کیا گیا ہے اور پارٹی کی سینئر قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے ہدایات دی تھیں کہ بجٹ کی تیاری میں مشیر خزانہ، سابق وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، عاطف خان اور جنید اکبر سے مشاورت کی جائے تاہم بجٹ کی تیاری میں ان رہنماؤں کو نظر انداز کیا گیا جس پر کئی اراکین اسمبلی نے سخت رد عمل دیا ہے۔ذرائع کے مطابق اندرونی اختلافات کے باعث اسمبلی میں بجٹ کی منظوری خطرے میں پڑ سکتی ہے، بانی سے مشاورت کے بغیر بجٹ تیار تو کیا گیا ہے لیکن ناراض اراکین نے اب اس کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر اتفاق کر لیا، کئی اراکین اسمبلی اب بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ آیا بجٹ بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر پیش کیا جائے یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی اراکین اسمبلی بجٹ بانی پی ٹی سے مشاورت کی منظوری کے بغیر
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔