ایران پر اسرائیلی حملے سے متعلق خفیہ دستایزات افشا کرنے پر امریکی اہکار کو سزا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار آصف رحمان کو خفیہ معلومات افشا کرنے کے جرم میں 37 ماہ قید کی سزا سنائی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ بتائے گی پاکستان کیوں زندہ باد
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مطابق آصف رحمان نے جنوری 2025 میں تسلیم کیا کہ انہوں نے 2024 کے دوران کئی مرتبہ ’ٹاپ سیکریٹ‘ دستاویزات ڈاؤن لوڈ، پرنٹ اور غیر متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر کیں۔
ان دستاویزات میں اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق حساس معلومات بھی شامل تھیں۔
آصف رحمان 2016 سے سی آئی اے میں خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی کلیئرنس حاصل تھی۔ ان کی گرفتاری کمبوڈیا سے امریکا واپسی پر اکتوبر 2024 میں عمل میں آئی، جب وہ مذکورہ خفیہ دستاویزات اپنے ساتھ لے کر آ رہے تھے۔
کچھ ہی عرصے بعد یہ معلومات ایک پرو-ایرانی ٹیلیگرام چینل ’مڈل ایسٹ اسپیکٹیٹر‘ پر شائع ہو گئیں، جس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق آصف رحمان نے اپنے عہدے اور اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کی۔ ان کے اس اقدام کو قومی سلامتی سے کھلا کھلواڑ قرار دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی حساس موڑ پر تھی، اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرات بڑھ رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران خفیہ دستاویزات سی آئی اے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران خفیہ دستاویزات سی ا ئی اے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔