سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے جمعہ کی علی الصبح ایرانی جوہری اہداف پر حملہ کیا، جبکہ ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین نے ملک کی یورینیم افزودگی کی مرکزی تنصیب سمیت متعدد مقامات پر دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسے ’اسرائیل کی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک جوہری بم اور میزائل فیکٹریوں پر کام کرنے والے ایرانی سائنسدانوں کو بھی ایک آپریشن میں نشانہ بنا رہا ہے جو کئی دنوں تک جاری رہے گا۔
ایران نے طویل عرصے سے کہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔
اسرائیل نے تہران کی طرف سے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
دنیا بھر کے اعلیٰ حکام اور حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کے ایران پر بڑے حملے کا ردعمل سامنے آرہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج رات، اسرائیل نے ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی، ہم ایران کے خلاف حملوں میں ملوث نہیں ہیں اور ہماری اولین ترجیح خطے میں امریکی افواج کی حفاظت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایران کو امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے‘۔
سعودی عرب کی ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت
ریاض، جو دو سال قبل مفاہمت سے قبل تہران کا حریف تھا، نے حملوں کی اس لہر کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جو اسرائیل کے مطابق اس نے ایران میں جوہری اور فوجی مقامات کے خلاف شروع کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب، برادر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صریح اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو اس کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے‘۔
ایران-امریکا جوہری مذاکرات میں ثالثی عُمان
عمان کی جانب سے صورتحال پر ردعمل میں کہا گیا کہ ’عمان اس عمل کو ایک خطرناک، غفلت کی بنا پر شدت میں اضافہ سمجھتا ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، اس طرح کا جارحانہ، مسلسل رویہ ناقابل قبول ہے اور علاقائی امن و سلامتی کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’سلطنت عمان، اسرائیل کو اس کشیدگی اور اس کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس خطرناک اقدام کو روکنے کے لیے ایک مضبوط اور واضح موقف اپنائے‘۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان
ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ ’انتونیو گوتریس مشرق وسطیٰ میں کسی بھی فوجی کشیدگی کی مذمت کرتے ہیں، وہ خاص طور پر ایران میں جوہری تنصیبات پر اس وقت اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت جاری ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سیکریٹری جنرل نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ہر قیمت پر گہرے تنازع کی طرف جانے سے گریز کریں، ایسی صورتحال جس کا خطہ متحمل نہیں ہو سکتا‘۔
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آسٹریلیا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ سے پریشان ہے، اس سے ایک ایسا خطہ مزید غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے جو پہلے سے ہی غیر مستحکم ہے، ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات اور بیان بازی سے گریز کریں جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم سب سمجھتے ہیں کہ ایران کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اور ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیں‘۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ ’یہ مشرق وسطیٰ میں واقعی ایک ناپسندیدہ پیشرفت ہے، غلط اندازے کا خطرہ زیادہ ہے، اس خطے کو مزید فوجی کارروائی اور اس سے وابستہ خطرے کی ضرورت نہیں ہے‘۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، ایرانی حملوں پر دفاع کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، ایرانی حملوں پر دفاع کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ تہران کو دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان کی ایران پر غیرقانونی اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت ایران ، اسرائیل کشیدگی: ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی، سونے کی قیمت میں اضافہ سی ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر راجہ گل حسن کی اہلیہ ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈی ایم اے لیاقت حیات والدہ محترمہ انتقال کر گئی... ایران کا بھرپور جوابی وار، اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز سے حملہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی حملے میں میجر جنرل محمد باقری شہید، مغربی میڈیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت اسرائیل کے نے کہا کہ ایران پر ایران کے میں کہا کے خلاف کی مذمت کے وزیر کے لیے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔