ایران کا جوابی حملہ انتہائی منظم اور فیصلہ کن ہو گا‘
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو اس کے حالیہ حملوں کے نتائج بھگتنا پڑیں گے اور اسے ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جواب صرف اسرائیل ہی نہیں، بلکہ اس کا بنیادی حلیف امریکا بھی دے گا۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ آج صبح اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن میں مذہبی اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے تہران کے رہائشی علاقوں میں دھماکوں کے ساتھ جاری رہے، لیکن ان کے مطابق ان کا جوابی حملہ انتہائی منظم اور فیصلہ کن ہو گا۔
خطے میں اس تازہ کشیدگی نے عالمی امن کو درپیش خطرات کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک اور یورپی طاقتوں نے اس صورتحال پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی اے ای اے اور اقوامِ متحدہ کے حکام نے فریقین سے تحمل اور تبادلۂ خیال سے تنازعے کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ آج13 جون 2025 کی صبح اسرائیل نے ایران میں ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے تحت بڑے فضائی حملوں کا آغاز کیا، جس میں ایران کے ایٹمی تنصیبات (جیسے نطنز)، بیلسٹک میزائل فیکٹریاں، اور اعلیٰ کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔
حملے کے دوران سینئر فوجی اور ایٹمی سائنسدان ہلاک ہوئے، جبکہ تہران اور دیگر شہروں میں رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہوئیں ۔ ایران نے انہیں خودکش حملوں کے طور پر قرار دے کر اعلان کیا کہ تل ابیب اور اس کے حلیفوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔