ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک، پانی روکنے پر بھارت کو جواب دیں گے: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک، پانی روکنے پر بھارت کو جواب دیں گے: بلاول بھٹو WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
برسلز(آئی پی ایس )پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک ہو سکتا ہے، بھارت نیپانی روکا توپاکستان جوابی اقدامات پرمجبور ہو گا۔برسلز میں وفد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ طاس جیسے معاہدے کمزور ہوئے تو علاقائی امن کو خطرہ ہوگا، بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کیا، ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کی زیر قیادت پاکستانی وفد کی بیلجیم کی پارلیمنٹ اور وزارت خارجہ سمیت مختلف حکام، بیلجیئم فارن افیئر کمیٹی کی وائس چیئر کیٹلین ڈیپورٹر اور چیئر آف پاکستان بیلجیئم پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپ فرانکیم بیلجینڈ اور سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ممبران سے بھی ملاقاتیں کیں، وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، خطے میں آگے بڑھنے پائیدار قیام امن اور مسائل کے حل کیلئے جامع مذاکرات کا حامی ہے۔
پاکستانی وفد نے انٹرنیشنل ٹریڈ کمیٹی کے چیئر ممبر یورپی پارلیمنٹ برنڈ لانجے سے ملاقات میں زور دیا کہ وہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی تجارت جاری رکھے، تاکہ یورپی ممالک کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات فروغ پائیں، وفد نے جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے خلاف کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں دہشت گردی سے متعلق کمیٹیوں کی ذمہ داری پاکستان کو دینا بڑی کامیابی ہے، پاکستان کو ٹیررستان کہنے والے بھارت کو یواین سے منہ توڑ جواب ملا، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا خطیمیں امن خراب کرنیکیمترادف ہے، ایران پراسرائیلی حملیکی مذمت کرتاہوں، عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ خطے میں جنگ کو فوری روکا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ وہ بھارت پر اس ضمن میں زور دیں گیکہ وہ سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے جیسے ماورائے قانون اقدامات سے اجتناب کرے، پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی پارلیمانی وفد نے یورپین کمیشن میں کمشنر برائے بین الاقوامی شراکت داری کی کابینہ سربراہ لوسی سیسٹاکووا، کیبنٹ ایکسپرٹ برائے ایشیا نیٹیویڈاد لورینزو، یورپ کے معروف تھنک ٹینک ایگمونٹ کے ڈائریکٹر جنرل ایمبیسڈر پال ڈی وٹ سمیت اہم شخصیات کو بتایا کہ جنگ بندی کے باوجود بھارت پانی کو ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ امریکی فوج کے اعلی حکام دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو غیر معمولی شراکت دار مانتے ہیں، خود صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کردار ادا کرنیکو تیار ہیں، ایسے میں یورپی یونین کو بھی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے جب کہ ایران پراسرائیلی حملیکی مذمت بھی کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے آگئیں خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستانی فضائی حدود مثر استعمال ہو رہی ہے، حکام سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے کی ہوا،، ڈائریکٹر سیکورٹی کو ڈائریکٹر انفورسمنٹ کا اضافی چارج دیدیا گیا،، مزید تقرری و تبادلے کی... ڈائریکٹر انفورسمنٹ افتخار علی حیدری ایک بار پھر معطل،، دستاویز سب نیوز پر ۔۔۔۔ ایران میں کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں؟ وزارت خارجہ کی ایران، عراق کے سفر پر نظرثانی کی ہدایت بینک سے کیش نکالنے پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟ ایف بی آر کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو پاکستان کو ایران پر وفد نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔