ایران کے اسرائیل پر تابڑ توڑ جوابی حملے دوبارہ شروع؛ تل ابیب دھماکوں سے گونج اُٹھا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسرائیل کے بڑے اور تباہ کن حملوں کے جواب میں ایران نے بھی انتقامی کارروائی کے طور پر دوسری بار حملے شروع کردیئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں اس وقت سائرن کی کان پڑی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
اسرائیل میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر کے نزدیک آگ اور دھواں دیکھا گیا ہے۔ کم از کم پانچ مقامات پر ہنگامی صورت حال ہے۔
سائرن بچتے ہی اسرائیلی شہری فضائی حملوں سے بچنے کے لیے زیر زمین بنے بنکرز کی جانب دوڑ پڑے۔ شہریوں کی چیخ و پکار کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل میں درجنوں اہداف پر جوابی حملے شروع کردیے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا بدلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے کمانڈروں، سائنسدانوں اور شہریوں کے قتل کا خمیازہ اسرائل بھگتنا پڑے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیئر عہدیدار نے مزید کہا کہ اب اسرائیل کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ہمارا انتقام نہایت تکلیف دہ ہوگا۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چند گھنٹوں کی خاموشی کے بعد اسرائیل کو دوبارہ سے 100 ڈرونز کے ساتھ بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے ایران کی جانب سے داغے ڈرونز اور میزائلوں کو دوبارہ فضا میں ناکام بنادیا ہے۔
اسرائیل کے ریسکیو ادارے نے کم از کم 7 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔