متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت، اقوام متحدہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2025ء) متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کو فوجی نشانہ بنانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔امارات نیوز ایجنسی وام کے مطابق امارات کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر انتہائی ضبط، تدبر، اور کشیدگی کے پھیلاؤ سے گریز نہایت ضروری ہے۔
(جاری ہے)
بیان میں متحدہ عرب امارات کے اس مؤقف کو دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، اور مکالمے کا فروغ ایسے بنیادی اصول ہیں جن کے ذریعے موجودہ بحرانوں کا پُرامن حل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔امارات نے زور دیا کہ تنازعات کا حل محاذ آرائی یا تصادم کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے فائر بندی کو یقینی بنائے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔متحدہ عرب امارات نے خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے علاقائی سلامتی و استحکام پر اس حملے کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔