ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے، تل ابیب دھماکوں سے گونج اُٹھا
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیل کا میزائلوں کی نشاندہی کے بعد تمام شہریوں کو پناہ گاہوں کی طرف جانے کا حکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://juraat.com/wp-content/uploads/2025/06/ایران-کے-اسرائیل-پر-حملے.mp4ایران نے جوابی کارروائی ’وعده صادق 3‘ کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کر دیے،
جس کے بعد تل ابیب میں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے جبکہ 7 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے اور تمام شہریوں کو پناہ گاہوں کی طرف جانے کا حکم دیا ہے۔
یروشلم میں سائرن بج رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائل ایران سے داغے گئے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق اسرائیل کے ایران پر اب تک کے سب سے بڑے حملوں کے بدلے میں سیکڑوں بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کی طرف میزائلوں کی دوسری لہر داغی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا کہ تھوڑی دیر پہلے صہیونی فوج نے ایران سے اسرائیل کی سرزمین کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے،
مزید کہا کہ عوام کو محفوظ پناہ گاہوں میں داخل ہونا چاہیے اور اگلی اطلاع تک وہاں رہنا چاہیے۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل تل ابیب کے اندر ایک کمیونٹی پر گرا ہے، لیکن تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ترجمان نے بتایا کہ اس مرحلے پر، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل کی ہنگامی خدمات کے سربراہ ایلی بن نے بتایا کہ ایران کی طرف سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں 7 افراد معمولی زخمی ہوئے۔
ادھر، مہر نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایران نے ملک کے رہائشی اور فوجی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے خلاف ایران نے فیصلہ کن جوابی کارروائی’وعده صادق 3’ کے نام سے شروع کر دی۔
ایران کا 2 اسرائیلی جنگی طیارے مار گرانے، خاتون پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ
دریں اثنا، ایرانی میڈیا نے مزید رپورٹ کیا کہ ایک کامیاب آپریشن میں ایرانی فوج نے ملک کی سرزمین پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ نے اعلان کیا ہے کہ دشمن اسرائیلی اہداف کے ساتھ فوج کے دفاعی یونٹوں کی جھڑپ کے دوران متعدد پروجیکٹائل، مائیکرو ایئر گاڑیاں اور ڈرون تباہ ہو گئے۔
ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران کے فضائی دفاع نے 2 اسرائیلی جنگی طیاروں کو مار گرایا جبکہ ایک خاتون پائلٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے مطابق اسرائیل میزائلوں کی اسرائیل کی کہ ایران ایران کی کی طرف
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔