اسرائیلی حملوں میں مزید 2 ایرانی جنرلز شہید، تعداد 8 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے مزید دو اعلیٰ فوجی جنرل شہید ہو گئے ہیں، جن کی شناخت غلامرضا مہربی اور مہدی ربانی کے نام سے ہوئی ہے۔ جنرل غلامرضا مہربی، ایرانی جنرل اسٹاف میں انٹیلی جنس کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ جنرل مہدی ربانی، جنرل اسٹاف کے ڈپٹی آپریشنز چیف تھے۔
یہ حملے اسرائیل کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں پر کیے گئے فضائی حملوں کا تسلسل ہیں، جو گزشتہ روز کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں اب تک ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے آٹھ اعلیٰ جنرل شہید ہو چکے ہیں، جن میں معروف کمانڈر حسین سلامی، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری، ایروسپیس فورس کے سربراہ امیر علی حاجیزادہ، اور جنرل غلام علی راشد بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکومت کی جانب سے ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے۔ ان فضائی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی کارروائیوں کا مقصد بظاہر ایران کی مرکزی فوجی قیادت کو کمزور کرنا ہے، جبکہ ایرانی قیادت اسے ایک “کھلی جارحیت” اور “ریاستی دہشت گردی” قرار دے رہی ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔