ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل: آئی سی سی نے بھارت کی میزبانی کی درخواست مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) فائنل کی میزبانی کی درخواست مسترد کر دی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ تین بدستور انگلینڈ میں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ٹیسٹ چیمپیئن شپ جیتنے والی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟ آئی سی سی نے اعلان کردیا
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق آئی سی سی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کی میزبانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اگلے 3 ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی میزبانی انگلینڈ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا ہے کہ آئندہ 3 فائنلز کی میزبانی انگلینڈ ہی کرے گا، یہ فیصلہ آئی سی سی کے آئندہ ماہ سنگاپور میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں باضابطہ طور پر منظور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل: جانیے کل سے شروع ہونے والے شاہانہ مقابلے کی تفصیلات
بھارت نے آئی سی سی سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ ڈبلیو ٹی سی فائنل کو مختلف ممالک میں گھمایا جائے، تاہم آئی سی سی نے تجارتی مفادات، لاجسٹکس مسائل اور تاریخی تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلینڈ کو ترجیح دی ہے۔
یاد رہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز 2019 میں ہوا تھا، ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل ہر دو سال بعد ہوتا ہے، پہلا فائنل 2021 میں ساؤتھمپٹن میں کھیلا گیا تھا، جس میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو شکست دی، دوسرا فائنل 2023 میں اوول گراؤنڈ، لندن میں ہوا، جس میں آسٹریلیا نے بھارت کو ہرایا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے آسٹریلیا کے اسکواڈ کا اعلان، کن اہم کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی؟
تیسرا فائنل 2025 میں لارڈز، لندن میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جارہا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ نے تمام فائنلز کی میزبانی کی ہے لیکن تاحال خود کسی فائنل میں جگہ نہیں بنا سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی انگلینڈ بھارت ٹیسٹ چیمپیئن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت ٹیسٹ چیمپیئن ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی میزبانی کی نے بھارت
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔