اسرائیلی کے تازہ حملوں کے دوران 2 ایرانی جنرلز اورمزید 3سائنسداں بھی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: اسرائیلی کے تازہ حملوں کے دوران ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے دو سینئر ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ہفتے کے روز ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سینٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق بریگیڈیئر جنرل غلام رضا محرابی اور بریگیڈیئر جنرل مہدی ربانی اسرائیلی حملوں کے دوران جاں بحق ہوگئے۔
ایرانی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سینٹر کےبیان میں کہا گیا ہے کہ “دہشت گرد، ناجائز اور مجرم صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے بعد، جنرل غلام رضا محرابی اور جنرل مہدی ربانی، مسلح افواج کے اعلیٰ عملہ اور آٹھ سالہ دفاع مقدس کے سابق فوجی، اپنے ساتھیوں سے جا ملے ہیں۔”
اس میں مزید کہا گیا کہ جنرل غلام رضا محرابی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے انٹیلی جنس کے نائب تھے، اور جنرل مہدی ربانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے آپریشنز کے نائب تھے۔
حمدان کے ڈپٹی گورنر برائے سیاسی اور سیکورٹی امور نے بتایا کہ اسد آباد میں اسرائیلی حکومت کی جارحیت کے نتیجے میں پہلے جوابی کارروائی میں دو اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔
حمزہ عمری نے ہفتے کے روز صحافیوں کو اس واقعے کا اعلان کیا، اور کہا کہ یہ افراد اسد آباد کاؤنٹی کے ایک مقام پر آج صبح کی جارحیت کے بعد ہلاک یا زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی جارحیت کا فضائی دفاعی یونٹوں کی جانب سے متناسب جواب دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بہادر مسلح افواج شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ملک کی زمین و آسمان کے دفاع کے لیے پوری طرح چوکس ہیں۔
زنجان صوبے کی IRGC کی شاخ نے بھی ہفتے کے روز ایک بیان میں اسرائیلی حکومت کے تازہ حملے کے دوران انصار المہدی کور کے 3 ارکان حامد توماری، اکبر عزیزی اور امیر خانی کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 14 جون 2025 کی صبح اسرائیلی حکومت کے وحشیانہ حملے میں صوبہ زنجان کی انصار المہدی کور کے تین ارکان نے اسلامی ایران اور اس کے انقلابی اور عظیم لوگوں کی سرحدوں اور سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے کے دوران
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔