تہران پر حملہ ایران کے اندر سے ہی کیا گیا، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ تہران پر حملہ ایران کے اندر سے ہی کیا گیا۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق موساد نے ایران میں ڈرون بیس قائم کی، ڈرونزکو ایک ہی رات میں متحرک کیا گیا، ایران کے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل لانچرز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ڈرون بیس تہران کے قریب قائم کی گئی، ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملوں کیلئے کئی سال منصوبہ بندی کی گئی، موساد کمانڈوز اور حساس آلات کو ایران اسمگل کیا گیا، اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور اسرائیل ڈیفنس فورس نے مشترکہ کارروائی کی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حملے میں ایرانی آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور ایران کے 6 ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایران کے 6 ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے، حملے میں سائنسدان مہدی تہرانچی، فریدون عباس، مطلبی زادہ ، عبد الحمید منوچھر، احمد رضا ذوافقاری، سید امیر حسین فقہی شہید ہوگئے۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقری اور پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی سمیت اہم کمانڈرز بھی شہید ہوگئے۔ سپریم لیڈر کی سیکیورٹی پر مامور القدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی بھی شہدا میں شامل ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حملے میں ایران کے کیا گیا
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔