اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے آیت اللہ خامنہ ای کے مشیرِ خاص انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے شدید زخمی ہونے والے مشیرِ خاص علی شمخانی جانبر نہ ہوسکے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی چوبیس گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اسپتال میں انتقال کرگئے۔
ابھی تک ایرانی حکومت کی جانب سے ان کی موت کے متعلق باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسپتال ذرائع نے تصدیق کی کہ بری طرح زخمی علی شمخانی کو ڈاکٹرز نے بچانے کی بھرپور کوششں کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔
علی شمخانی کی وفات ایران کے لیے نہ صرف ایک سفارتی نقصان ہے بلکہ وہ اندرونِ ملک سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی کے بڑے دماغ تصور کیے جاتے تھے۔
علی شمخانی طویل عرصے تک ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے اور وہ خطے میں ایران کی اسٹریٹجک پالیسیوں کے معمار سمجھے جاتے تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مشیرِ خاص علی شمخانی نے 2023 میں چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات میں بھی کلیدی کردار ادا کا تھا۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ علی شمخانی کی موت پر متوقع طور پر ایران میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جائے گا اور ان کے جنازے میں اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی۔
تاہم ابھی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای کے علی شمخانی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔