انصاف خطرے میں،اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی اور ایران پر جارحیت عالمی قانونی اقدامات کی متقاضی ہے
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
انصاف خطرے میں،اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی اور ایران پر جارحیت عالمی قانونی اقدامات کی متقاضی ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
تحریر: حافظ احسان احمد کھوکھر
دنیا ایک بار پھر بین الاقوامی قانونی نظام کے عملی انہدام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی افواج کی سفاکانہ فوجی کارروائی اور 13 جون 2025 کو ایران پر اس کے حالیہ سرحد پار فضائی حملے الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں؛ بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں کا تسلسل ہیں جو کھلے عام اور مکمل استثنی کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف نشانہ بننے والی ریاستوں کی خودمختاری کو پامال کرتے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کو بھی زائل کرتے ہیں۔اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد اسرائیل کی فوجی جارحیت نے غزہ کو مکمل انسانی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ جون 2025 تک، غزہ کی صحت حکام کے مطابق 54321 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 70 فیصد سے زائد خواتین اور بچے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 123000 سے تجاوز کر چکی ہے، اور 10000 سے زائد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اسپتالوں، اسکولوں، مساجد اور اقوام متحدہ کے پناہ گزین مراکز سمیت وسیع پیمانے پر شہری انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امدادکے مطابق غزہ کے صرف 38 فیصد طبی مراکز جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، اور اہم انسانی امداد مسلسل روکی جا رہی ہے۔
پانچ سال سے کم عمر کے 2700 سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، اور پورے محصور علاقے میں قحط پھیل چکا ہے۔عام شہریوں پر شدید طاقت کا استعمال، شہری آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانا، طبی و انسانی امدادی ڈھانچے کی تباہی، اور ضروری امداد کی ناکہ بندی نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابل دفاع ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کھلی خلاف ورزیاں ہیں۔ اسرائیل کے یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 147 کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جو محفوظ افراد کے قتل اور غیر انسانی سلوک پر پابندی عائد کرتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم اسٹیچوٹ کے تحت شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین، بشمول ہیومن رائٹس واچ اور ڈاکٹرز وِدآٹ بارڈرز کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے سفید فاسفورس کا استعمال اور اندھا دھند بمباری اجتماعی سزا کے ایک منظم عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جو عرفی بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے، جون 2025 میں اسرائیل نے ایران کے اندر متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر جارحانہ فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی، جو مبینہ طور پر “رائزنگ لائن” کے نام سے کی گئی، میں کم از کم 80 ایرانی فوجی اور سائنسدان شہید اور 320 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملے کسی فوری حملے کے ردعمل میں نہیں کیے گئے بلکہ پیشگی نوعیت کے تھے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت “خود دفاع” کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ کسی اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختار سرزمین پر یہ براہ راست حملہ عالمی امن و سلامتی کے خلاف ایک سنگین خلاف ورزی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی بھی ہے۔ایران نے ان حملوں کے ردعمل میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے اسرائیل میں جانی نقصان ہوا اور فلسطینی علاقوں میں بھی کچھ ضمنی نقصان پہنچا۔ اس ردعمل نے پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس کے نتائج نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی امن و معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے کے فضائی راستوں میں ہائی الرٹ کی صورتحال اس بات کی عکاس ہے۔ان تمام واضح اور دستاویزی خلاف ورزیوں کے باوجود اسرائیل کو کوئی حقیقی قانونی جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی معطلی، جو بالخصوص مستقل اراکین، خاص طور پر امریکہ کی سیاسی حمایت کے باعث ہے، اسرائیل کو مکمل استثنی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دے رہی ہے۔ یہ ناکامی محض ایک ادارہ جاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی انہدام ہے جو بین الاقوامی قانون کی ساکھ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔تاہم یہ استثنی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ بین الاقوامی قانونی نظام میں اب بھی احتساب کے لیے مثر راستے موجود ہیں، اگر سیاسی عزم ہو۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو محض علامتی مقدمات کے لیے نہیں بلکہ سنجیدہ عدالتی کارروائی کے لیے متحرک کیا جانا چاہیے۔ مسلم اکثریتی ممالک، خاص طور پر وہ جو روم اسٹیچوٹ کے فریق ہیں، انہیں فلسطین کے مقدمے کے تحت اسرائیلی قیادت کے خلاف فوری مقدمات کے لیے دبا ڈالنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، وہ ممالک جن کے ہاں عالمی دائرہ اختیار کے قوانین موجود ہیںجیسے جنوبی افریقہ، اسپین یا ملائیشیاوہ اسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات حتی کہ ان کی غیر موجودگی میں بھی دائر کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی عدالت انصاف کو محض مشاورتی آرا تک محدود نہ رکھا جائے۔ متعدد ریاستیں متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف نسل کشی کنونشن کے تحت مقدمہ دائر کریں اور مزید مظالم کو روکنے کے لیے فوری عبوری اقدامات کی درخواست کریں۔ ریاستی ذمہ داری کے تناظر میں کا دائرہ اختیار ایک موثر راستہ فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو “یونائٹنگ فار پیس” قرارداد کو فعال کرنا چاہیے تاکہ سلامتی کونسل کی ناکامی کی صورت میں اجتماعی پابندیوں اور سفارتی اقدامات کی سفارش کی جا سکے۔مسلم دنیا، جو 1 اعشاریہ9 ارب سے زائد افراد اور 57 ممالک پر مشتمل ہے، کے لیے اب محض ردعمل کی سطح سے آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک مربوط، متحرک، اور جامع قانونی، سفارتی، اور معاشی حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کو ایک “خصوصی قانونی سربراہی اجلاس” منعقد کر کے ایک “مستقل احتساب کونسل” قائم کرنی چاہیے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی قانونی کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرے، فلسطین اور ایران کی نمائندگی کے لیے قانونی ٹیموں کی مالی معاونت کرے، اور مستقبل کے عدالتی عمل کے لیے شواہد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔معاشی دبا بھی ایک اہم ذریعہ ہونا چاہیے۔ مسلم ممالک کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات منجمد کرنے، تجارتی معاہدے معطل کرنے، اور اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی BRICS+، افریقی یونین اور لاطینی امریکی بلاکس کے ساتھ تعاون بڑھا کر عالمی حمایت کو وسعت دی جائے۔
عوامی سفارتکاریبین الاقوامی میڈیا، قانونی تھنک ٹینکس، اور عالمی تعلیمی اداروں کے ذریعیکو متحرک کیا جائے تاکہ غلط معلومات کا مقابلہ کیا جا سکے اور انصاف کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔اسرائیلی ریاست کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی بار بار اور سنگین خلاف ورزیاںخواہ وہ غزہ میں نسل کشی کی شکل میں ہوں یا ایران پر غیر قانونی جارحیت کی صرف مذمت سے نمٹائی نہیں جا سکتیں۔ ان خلاف ورزیوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے، جو قانون، اخلاقیات اور عالمی ضمیر پر مبنی ہوں۔ اگر دنیا اب خاموش رہی تو یہ پیغام جائے گا کہ بین الاقوامی قانون قابلِ سودا ہے، اور طاقت ہی قانون ہے۔انصاف کی راہ مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ یہ سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم ان کے لیے کھڑے ہوں جو خود کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے۔ مسلم ممالکاور وہ تمام اقوام جو قانون کی حکمرانی کا دعوی کرتی ہیں کو اب عمل کی قیادت کرنی ہو گی۔ غزہ اور ایران میں انصاف کی تاخیر صرف متاثرین کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران اسرائیل جنگ؛ 450 پاکستانی زائرین کا انخلا مکمل کر لیا گیا، نائب وزیراعظم ٹیکنالوجی جنگیں جیتتی ہے، انسانیت جانیں ہارتی ہے مسلم دنیا پر مربوط جارحیت عبدالرحمان پیشاوری__ ’عجب چیز ہے لذتِ آشنائی‘ غزہ اور فلسطین: مسلم دنیا کا امتحان بیلٹ اور بندوق: بھارت کے انتخابات پاکستان کے ساتھ کشیدگی پر کیوں انحصار کرتے ہیں؟ مُودی کا ”نیو نارمل” اور راکھ ہوتا سیندور!Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں اسرائیل اسرائیل کی اقدامات کی اور ایران ایران پر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی