ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں غزہ جیسے مناظر، کشیدگی عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران کی جانب سے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کے کئی شہروں میں شدید تباہی اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے بعد مقامی و بین الاقوامی مبصرین نے صورتحال کو غزہ جیسے مناظر سے تشبیہ دی ہے۔
تل ابیب، حیفا، اشدود اور دیگر شہروں میں ہونے والے حملوں کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے، سائرن گونجتے رہے اور شہری پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں ایران کا اسرائیل پر حملہ، 14 اسرائیلی ہلاک، ٹرمپ نے تہران کو پُرامن معاہدے کی پیشکش کردی
’حملوں کی نوعیت اور اثرات‘ایرانی حملوں میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا جن میں سے متعدد اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم سے بچ نکلے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تازہ حملوں میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، جب کہ کئی رہائشی عمارتیں، آئل ریفائنریاں اور توانائی کے مراکز شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اس وقت اسرائیلی عوام میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ حملوں کے فوری بعد پناہ گاہوں میں بھاگتے بچوں، روتی خواتین اور ملبے تلے دبے افراد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ غزہ پر ہونے والے حملوں جیسے مناظر اب خود اسرائیل میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
ایران کا مؤقفایرانی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کے پے در پے حملوں کے ردعمل میں کی گئیں، جن میں ایرانی سائنسدانوں، فوجی تنصیبات اور تیل کے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، ایران نے اسے ’دفاعی حق‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل اسرائیل نے ایران کے اندر کئی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس میں اعلیٰ ایرانی فوجی افسران اور جوہری سائنسدان شہید گئے۔ ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے شدید ردعمل کا عندیہ دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان عمان میں ہونے والے چھٹے دور کے جوہری مذاکرات بھی منسوخ کردیے گئے۔
عالمی رہنماؤں کی فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیلعالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل سے کام لینے اور سفارتکاری سے معاملات کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ، چین، فرانس اور برطانیہ نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل ایران جنگ کے باعث خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں ایران کے جوہری پروگرام پر فوری مذاکرات کے لیے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی آمادگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل کے اندر ایرانی حملے اس شدت سے محسوس کیے گئے ہیں، جو کہ مستقبل میں خطے میں مزید بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ غزہ جیسے مناظر کا اسرائیل میں آ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ کی آگ صرف ایک طرف نہیں رہ سکتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل ایران جنگ ایرانی وزارت دفاع تباہی غزہ جیسے مناظر میزائل حملے وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ ایرانی وزارت دفاع تباہی میزائل حملے وی نیوز حملوں کے بعد ایران کے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔