پاکستان نے بھارت اور عالمی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی اور عالمی میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بھارتی اور عالمی میڈیا پاکستان کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جو غلط معلومات پر مبنی ہیں۔
حکومت پاکستان نے اس منفی پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا ایک ناپسندیدہ صورتحال پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو خطرناک حد تک پھیل سکتا ہے پاکستان کے موقف کو صدر، وزیر اعظم اور وزارت خارجہ نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں اپنے مستقل نمائندے کے ذریعے پاکستان نے اپنا موقف بھی پہنچایا ہے۔ باقی سب بدنیتی پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ پروپیگنڈہ ہے۔
دفتر خارجہ کے اعلی حکام نے اس پراپیگنڈے کق مسترد کیا ہے اور متنبے کیا ہے کہ اس مزموم سازش کو پاکستان دشمن عناصر پھیلا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔