اسرائیل نے امن مذاکرات کو سبوتاز کر کے جنگی جنون کو ترجیح دی، ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ڈاکٹر روبینہ اختر
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
پی ٹی آئی ویمن ونگ کی رہنما کا کہنا تھا کہ نہیتے فلسطینیوں پر ظلم اور جبر کی داستانیں رقم کرنے والا اسرائیل یہ بھول گیا ہے کہ بے گناہ معصوم لوگوں کا خون رنگ لائے گا اور اس کی امن دشمن کوششیں اس کی تباہی کا باعث بنیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کی رہنما این اے 148 کی امیدوار ڈاکٹر روبینہ اختر نے کہا ہے کہ جب اسرائیل اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے تھے تو ان کو نتیجہ خیز بنانے کی بجائے اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر دی جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے، نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور جبر کی داستانیں رقم کرنے والا اسرائیل یہ بھول گیا ہے کہ بے گناہ معصوم لوگوں کا خون رنگ لائے گا اور اس کی امن دشمن کوششیں اس کی تباہی کا باعث بنیں گی، اسرائیل بھی ہندوستان کی طرح جنگ بندی کی بھیک مانگتا پھرے گا کیونکہ دنیا میں امن کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ مذاکرات کا راستہ ہے ورنہ اسرائیل کی مزموم حرکت دنیا کو ایک ایسی اگ میں جھونکنئے کی کوشش ہے، جس میں صرف تباہی ہی تباہی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان عوام اس مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑی ہے ہر فورم پر ایران کی آواز اٹھانے کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔