ایران کے دارالحکومت تہران میں پولیس نے دو الگ الگ کارروائیوں میں موساد کے مزید 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 200 کلو بارود اور 23 ڈرونز کا سامان اور دیگر آلات برآمد کرلیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے ترجمان سعید منتظر المہدی نے اتوار کے روز بتایا کہ ان دو افراد کی شناخت کر کے انہیں صوبہ تہران کے شہرِ رے کے ضلع فشافویہ سے گرفتار کیا گیا۔

Security forces located a clandestine drone-manufacturing site in Shahr-e Rey, south of Tehran.


The three floors building, was used by Israeli agents to assemble and store UAVs intended for terrorists operations.
Officials also found homemade bombs and over 200 kg of explosives. pic.twitter.com/wrZz1vc12x

— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) June 15, 2025


منتظر المہدی کے مطابق ان کے قبضے سے 200 کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد، 23 ڈرونز کا سامان، لانچرز اور دیگر آلات برآمد کیے گئے ہیں جبکہ ایک نسان پک اپ گاڑی بھی قبضے میں لی گئی ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم نیوز‘ کے مطابق 3 منزلہ عمارت اسرائیلی ایجنٹوں کی جانب سے ڈرونز کی تیاری اور انہیں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق وہاں سے دیسی ساختہ بم اور 200 کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

اتوار کے روز ہی صوبہ البرز کی ساوجبلاغ کاؤنٹی میں موساد کے 2 دیگر ایجنٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو صوبہ تہران کے ساتھ واقع ہے۔

اسرائیلی حکومت نے 13 جون کی شب بغیر کسی اشتعال انگیزی کے ایران کے اندر رہائشی عمارتوں سمیت متعدد مقامات پر حملے کیے، اس کے بعد سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ ایران میں تخریب کاری کی کوششیں کرتے رہے ہیں، چھوٹے ڈرونز کے ذریعے دھماکا خیز مواد لے جا کر مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل کے اندر دور تک حملے کیے گئے ہیں جن میں تل ابیب، یروشلم اور حیفہ جیسے شہروں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جہاں شہری پورا دن زیر زمین پناہ گاہوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

Post Views: 2

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا